حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 504
حقائق الفرقان ۵۰۴ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ ہے۔توں توں قدرت اور منشاء الہی ان آمد نیوں کو ایک خرچ کا کیر ابھی لگا دیتا ہے۔گھر کی مستورات سے ہی لو۔اور پھر غور کرو کہ اس قوم نے کس طرح محنت کرنا اور کاروبار خانگی سے دست برداری اختیار کی ہے۔چرخہ کا تنا یا چکی پیس کر گھر کی ضرورت کو پورا کرنا تو گویا اس زمانہ میں گناہ بلکہ کفر کی حد تک پہنچ گیا ہے۔کام کاج ( جو کہ دراصل ایک مفید ورزش تھی۔جس سے مستورات کی صحت قائم رہتی اور دودھ صاف ہو کر اولاد کی پرورش اور عمدہ صحت کا باعث ہوتا تھا ) تو یوں چھوٹا۔اخراجات میں ایسی ترقی ہوئی کہ آجکل کے لباس کو دیکھ کر مجھے تو بار ہا تعجب آتا ہے۔ایسا نکما لباس ہے کہ دس پندرہ دن کے بعد وہ نکما محض ہو کر خادمہ یا چوہڑی کے کام کا ہو جاتا ہے۔اور خدا کی قدرت کہ پھر وہ چوہڑی بھی اس سے بہت عرصہ تک مستفید نہیں ہوسکتی۔وہ کپڑے کیا ہوتے ہیں۔وہ تو ایک قسم کا مکڑی کا جالا ہوتا ہے جس میں بیٹھ کر وہ شکار کرتی ہے۔پھر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور خطر ناک گھن لگا ہوا ہے۔وہ یہ کہ اشیاء خوردنی کا نرخ بھی گراں ہورہا ہے۔ہر چیز میں گرانی ہے۔اگر آمدنی کی ترقی ہوئی تو کیا فائدہ ہوا۔دوسری طرف خرچ کا بڑھاؤ ہو گیا۔بات تو وہیں رہی۔ہمارے شہر کا ذکر ہے کہ ایک قوم دوا (آنہ ) روز کے حساب سے ایک زمانہ میں مزدوری کیا کرتی تھی۔ایک دفعہ انہوں نے مل کر یہ منصوبہ کیا کہ بجائے ۸ دن کے ۵ دن میں روپیہ لیا کریں۔اور جو شخص ہم میں سے اس کی خلاف ورزی کرے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کی عورت کو طلاق۔مگر خدا کی قدرت وہ کام نہ چل سکا۔اور آخر مجبوراً ان کو فتوای لینا پڑا کہ اب کیا کریں۔ملاں کے پاس گئے تو اس نے کہہ دیا کہ ہماری مسجد میں چند روز مفت کام کرو جواز کی راہ نکال دیں گے۔غرض ایک تو وہ وقت تھا اور ایک اب ہے کہ وہ روپیہ روز یا بعض سوا روپیہ روزانہ کماتے ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ کام بھی اس وقت کے برابر عمدہ اور مضبوط نہیں اور مقدار میں بھی اس وقت سے کم ہے۔اس وقت وہی لوگ اُسی مزدوری میں انجینئر نگ اور نقشہ کشی کرتے تھے۔اور وہی عمارت کا کام کرتے تھے۔مگر اب ان کاموں کے واسطے الگ ایک معقول تنخواہ کا ملازم درکار ہے۔میرے والد صاحب ایک قسم کی لنگی