حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 458
حقائق الفرقان ۴۵۸ سُوْرَةُ النَّصْرِ کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا ایمان لا کر اور خدا تعالیٰ کی فرمودہ باتوں کے پورا ہو جانے پر یقین کر کے ان کے واسطے ہر طرح کے سامان مہیا کرتے ہیں۔اسی طرح حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رویا کی سچائی پر یقین کر کے سفر مکہ کی تیاری کی اور چودہ سو اصحاب کے ساتھ شہر مکہ کی طرف آئے۔بعض نادان لوگ ایسے موقع پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ پیشگوئی کو پورا کرنے کے واسطے کوشش کیوں کی جاتی ہے۔وہ تو خدا کا وعدہ ہے بہر حال پورا ہوگا۔ایسے اعتراضات تمام انبیاء پر کفار نے کئے اور اس زمانہ کے بدقسمت لوگوں نے بھی یہ اعتراض خدا کے مرسل حضرت مسیح موعود پر کئے کہ مثلاً مقدمہ کے وقت آپ نے پلیڈر کیوں کھڑا کیا۔اور شادی کے موقع پر آپ نے خط و کتابت وغیرہ کوششوں میں کیوں حصہ لیا۔تعجب ہے کہ یہ اعتراض خود مسلمان اور دوسرے اہلِ کتاب عیسائی بھی کرتے ہیں۔جن کی کتب میں انبیاء کی اس سنت کی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔مسلمانوں کے واسطے تو خود یہی ایک قصہ کافی ہے جو اس سورہ شریف کے متعلق بیان ہوتا ہے اور عیسائیوں کے واسطے خود یسوع کی لائف میں بہت سے ایسے واقعات موجود ہیں۔یسوع بچہ ہی تھا کہ اس کی جان بچانے کے واسطے اسے خفیہ طور پر ملک مصر میں لے گئے اور پھر عین نبوت کے زمانہ میں جب دشمنوں سے خوف بڑھا تو اپنے شاگردوں کو حکم کیا کہ کسو سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں۔پھر بزعم متی کی توریت کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے واسطے خود گدھی کا بچہ منگوایا تا کہ اس پر سوار ہو۔غرض ایسے طریق پر اعتراض کرنا ایک جاہل متعصب کا کام ہے۔خود دنیا کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ جب مثلاً ایک بادشاہ ایک محل کے تیار کرنے کے واسطے حکم کرتا ہے تو خدام اور ملازمین اس حکم کی تعمیل میں دل و جان سے مصروف ہو جاتے ہیں۔اور وہ محل تیار ہو جاتا ہے۔گو ظاہری نظر سے دیکھنے والا نادان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ حل فلاں معمار یا فلاں مزدور نے بنوایا ہے۔تاہم دانا لوگ جانتے ہیں کہ اس محل کا اصل بانی بادشاہ کے منہ کا حکم ہے۔ورنہ کسی کی کیا طاقت تھی کہ کوئی ایسا محل تیار کر دیتا۔گو یہ مثال ادنیٰ درجہ کی ہے تاہم اس سے ایک فہیم سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح انجینئر بادشاہ کا حکم پا کر