حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 428 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 428

حقائق الفرقان ۴۲۸ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ اور اس میں بھی راحت نہیں۔لیکن جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو وہ دیتا ہے تو پھر کس قدر دیتا ہے؟ اور ساری راحتوں کا مالک اور وارث بنا دیتا ہے۔میں نے پہلے بتا دیا ہے کہ جتنا چھوٹا ہوتا ہے۔اس کا اتنا ہی دینا ہوتا ہے۔اور جس قدر بڑا اسی قدر اس کی دہش ہوتی ہے۔جس قدر کبریائی اللہ تعالیٰ رکھتا ہے۔اسی کے موافق اس کی عطا ہے اور اس کی عطا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔میں نے ایک دنیا دار کو دیکھا ہے۔وہ میرا دوست بھی ہے۔میں کلکتہ میں اس کے مکان پر تھا۔اس نے مجھے دکھایا کہ وہ ایک ایک دن میں چار چار سو پانچ پانچ سوروپیہ کیسے کمالیتا ہے۔مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ میں نے اس کو ایک مرتبہ گجرات میں دیکھا۔بہت ہی بری حالت میں مبتلا۔میں نے اس کو اور تو کچھ نہ کہا۔صرف یہ پوچھا کہ بتاؤ کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ یہ حالت ہوگئی ہے کہ رہنے کو جگہ نہیں کھانے کو روٹی نہیں۔اس وقت یہاں آیا ہوں کہ فلاں شخص کو پندرہ ہزار روپیہ دیا تھا مگر اب وہ بھی جواب دیتا ہے۔میں نے اس کی اس حالت کو دیکھ کر یہ سبق حاصل کیا کہ چالا کی سے انسان کیا کما ہے؟ ادھر بالمقابل دیکھئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع نے کیا کمایا۔میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وعظ کرتے ہیں چالاکیاں کرتے ہیں لیکن ذرا پیٹ میں درد ہوتو بول اٹھتے ہیں کہ ہم گئے۔سکتا پس تم وہ چیز بنوجس کا نسخہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے اتباع پر تجربہ کر کے دکھایا ہے کہ جب وہ دیتا ہے تو اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ بھی کہانی ہے کہ کس کس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی نصرت کی ہے۔اسی شہر میں دیکھو مرزا غلام احمد ایدہ اللہ الاحد ایک شخص ہے۔کیا قد میں امام الدین اس سے چھوٹا ہے یا اس کی ڈاڑھی چھوٹی ہے۔اس کا مکان دیکھو تو حضرت اقدس کے مکانوں سے مکان بھی بڑا ہے۔ڈاڑھی دیکھو تو وہ بھی بڑی لمبی ہے۔کوشش بھی ہے کہ مجھے کچھ ملے۔مگر دیکھتے ہو۔خدا کے دینے میں کیا فرق ہے؟ میں یہ باتیں کسی کی اہانت لے مرزا امام الدین