حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 427 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 427

حقائق الفرقان ۴۲۷ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ فریب و دغا میں بیباک ہو رہے ہیں۔نمازوں میں سستی، قرآن کے سمجھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے۔اور سب سے بدتر ستی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال چلن کی خبر نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ عیسائی اور آریہ آپ کے چال چلن کو تلاش کرتے ہیں۔اگر چہ اعتراض کرنے کے لئے مگر کرتے تو ہیں۔مسلمانوں میں اس قدرستی ہے کہ وہ کبھی دیکھتے ہی نہیں۔اس وقت جتنے یہاں موجود ہیں۔ان کو اگر پوچھا جاوے تو شاید ایک بھی ایسا نہ ملے جو یہ بتا سکے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی معاشرت کیسی تھی، آپ کا سونا کیسا تھا، جا گنا کیسا، مصائب اور مشکلات میں کیسی استقلال اور علو ہمتی سے کام لیا۔اور رزم میں کیسی شجاعت اور ہمت دکھائی۔میں یقینا کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جو تفصیل کے ساتھ آپ کے واقعات زندگی پر اطلاع رکھتا ہو۔الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۴ تا ۱۶ ) حالانکہ یہ ضروری بات تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حالات زندگی پر پوری اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی۔کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ آپ دن رات میں کیا کیا عمل کرتے تھے؟ اس تک وقت ان اعمال کی طرف تحریک اور ترغیب نہیں ہوسکتی۔خدا تعالیٰ کی محبت یا اس کے محبوب بننے کا ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع ہے۔پھر یہ اتباع کیسے کامل طور پر ہو سکتی ہے۔جب معلوم ہی نہ ہو کہ آپ کیا کیا کرتے تھے۔اس پہلو میں بھی مسلمانوں نے جس قدر اس وقت سستی اور غفلت سے کام لیا ہے وہ بہت کچھ ان کی ذلت اور ضعف کا باعث ٹھہرا۔اس ضروری کام کو تو چھوڑا۔پر مصروفیت کس کام میں اختیار کی۔نفسانی خواہشوں کے پورا کرنے میں۔چائے پی لی، حقہ پی لیا، پان کھا لیا۔غرض ہر پہلو اور ہر حالت سے دنیوی امور میں ہی مستغرق و گئے۔مگر پھر بھی آرام اور سکھ نہیں ملتا۔ساری کوششیں اور ساری تگ و دود نیا کے لئے ہی ہوتی ہے ہو۔