حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 384
حقائق الفرقان ۳۸۴ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ ہیں۔جو مادی لوگ یا میٹریلسٹ (Materialist) کہلاتے ہیں۔انبیاءعلہیم السلام کے بڑے اور عظیم الشان کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ایمان بالآخرت پر قائم کریں۔اخلاقی اور تمدنی حیثیت سے بھی یوم الدین پر ایمان کا قائم کرنا امن و امان کے قیام کے واسطے نہایت ضروری ہے۔جو شخص اعمال کی جزا و سزا کا قائل نہیں۔وہ بے دھڑک ہو کر جس کا مال چاہے گا ناجائز طور پر کھائے گا۔ظاہری سلطنتیں دلوں کے درست کرنے سے قاصر ہیں۔دلوں کو راہِ راست پر لانا صرف روحانی سلطنتوں کا کام ہے جو انبیاء اور اولیاء کے ذریعہ سے دنیا میں ہمیشہ قائم ہوتی ہیں۔اسی پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کی سلطنت کی حفاظت کے واسطے ایک تعویذ ہوں۔کیونکہ آپ مخلوق کے دلوں میں تقوی اور راستی کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔گورنمنٹ کے برخلاف جہادی خیالات جو اس ملک میں مشنری، عیسائی پادری، مسلمان ملاں اور آر یہ لوگ پھیلا رہے ہیں اس کو اعتقادی رنگ میں لوگوں کے دلوں سے نکال رہے ہیں اور علاوہ اس کے اپنے مریدوں سے یہ اقرار لیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ نیکی کو اختیار کریں۔راست بازی پر چلیں بدی کو چھوڑ دیں۔کسی قسم کی بغاوت میں ہرگز شامل نہ ہوں۔جولوگ جزاوسزا کے قائل نہیں وہ دنیوی مصائب سے گھبرا کر خود کشی کر لیتے ہیں تا کہ اس عذاب سے چھوٹ جاویں۔اگر ان کو معلوم ہوتا اور یقین ہوتا کہ آگے ایک اور عذاب ان کے واسطے موجود ہے تو وہ ایسا نہ کرتے۔یہ یوم الدین کے انکار کا سبب ہے کہ یورپ امریکہ میں اس کثرت کے ساتھ خود کشی ہر سال ہوتی ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت اقدس مرزا صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ میں دنیوی مصائب سے تنگ ہوں اور چاہتا ہوں کہ خود کشی کرلوں۔حضرت نے اس کو جواب لکھا کہ خود کشی سے کیا فائدہ ہے مرنے سے انسان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔بلکہ ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔خود کشی کرنا گناہ ہے اور اس کے واسطے عذاب ہے اس سے بچنا چاہیے۔دین کے معنے مذہب کے بھی ہیں۔اس صورت میں اَروَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ کے یہ معنے ہیں کہ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا ہے جو دین کو جھٹلاتا ہے اور آگے تشریح ہے کہ دین کے جھٹلانے