حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 376

حقائق الفرقان سُوْرَةُ قُرَيْشٍ رَبَّ هذا الْبَيْتِ۔اس گھر کے رب کی عبادت کرو۔اس میں اس گھر کے متعلق جو اللہ تعالیٰ کی خاص ربوبیت کے نشانات ہیں۔ان کی طرف اشارہ ہے۔اس قسم کا محاورہ توریت میں بھی ہے۔مثلاً ابراہیم کے خدا کی عبادت کرو۔اسحاق کے خدا کی عبادت کرو۔تم اپنے باپ دادوں کے خدا کی عبادت کرو جو کہ تمہیں ملک مصر میں سے نکال لایا۔خانہ کعبہ کو بیت اللہ بھی کہتے اور بیت العتیق بھی کہتے ہیں۔قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک وقت یہ خطہ بھی سرسبز و شاداب و سیراب نہروں اور نباتات کے ساتھ ہو جائے گا۔چنانچہ اس پیشگوئی کا پورا ہونا آج ظاہر ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے اور اس کی عبادت میں مصروف ہونے اور تو کل سے فائدہ اٹھا کر دنیوی احتیاج سے محفوظ رہنے کی مثالیں فردا فردا تو جو ہیں سو ہیں۔مگر مجموعی طور پر ملک عرب میں اس علاقہ نے اس کا نمونہ دکھایا ہے کہ جب ایک زمین خدا کی عبادت کے واسطے خاص ہوئی تو وہ با وجود بنجر بیابان ہونے کے تمام دنیوی نعمتوں سے متمتع ہو گئی۔حدیثوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی اپنی آخرت کے اہتمام میں ہو اللہ تعالیٰ اس کے نفس میں تو نگری دے دیتا ہے۔اور دنیا کے ہموم سے اسے کفایت کرتا ہے مگر جس نے غافل ہو کر دنیا کے اہتمام میں شغل کیا۔اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے سامنے محتاجی کر دیتا ہے۔اور دنیوی ہموم سے اسے کفایت نہیں کرتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا اس گھر کے واسطے کی تھی کہ رَبِّ اجْعَلُ هَذَا بَلَدًا مِنَّا وَ ارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرتِ۔(البقره: ۱۲۷) وہ دعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔اور اس سے بقیہ حاشیہ۔محبت میں گرفتار ہے۔جب تک نہ مرے گا اس جھگڑے سے کیسے نجات پائے گا۔اپنی ہستی کو فنا کر دے تا کہ تجھ پر فیضان الہی نازل ہو جان قربان کرتا کہ تجھے دوسری زندگی ملے۔تو تو اپنی عمر کبر اور کینہ میں بسر کر رہا ہے اور صدق و یقین کے راستہ سے آنکھ بند کر رکھی ہے۔نیک دل انسان نیکیوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔مگر بداصل آدمی موتی پر بھی تھوکتا ہے۔دین کیا ہے۔فنا کا بیج بونا اور زندگی کو ترک کر دینا۔جب تو سینکڑوں دردوں اور چیخوں کے ساتھ گر پڑتا ہے تو پھر ضرور کوئی کھڑا ہو جاتا ہے کہ تیرا مددگار ہو جائے۔نادان کے لئے دانا آدمی کا دل تڑپتا ہے اور آنکھوں والے اندھے پر ضرور رحم کرتے ہیں۔اسی طرح قانون الہی بھی واقع ہوا ہے کہ قوی کمزوروں کو ضرور یاد کرتا ہے۔اے اے میرے رب! تو اس شہر کو امن اور سلامتی کا شہر بنادے اور یہاں کے رہنے والوں کو جو تجھ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے ہوں اُن کو پھلوں سے روزی دیجیو۔