حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 375
حقائق الفرقان ۳۷۵ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ جاں بصدق آن داستان را داده است تا کنوں این بود رسم از۔در سنگها افتاده است و ره صدق و وفا این بود مردان حق را انتہا ریپئے آں زنده از خود فانی اند جاں فشاں بر مسلک ربانی اند فارغ افتاده ز نام دوعه و جاه دل زکف و ز فرق افتاده کلاه دورتر از خود به یار آمیخته آبرو از پہر روئے ریختہ ذکر شاں ہم مے دهد یاد از خدا صدق در زال در جناب کبریا گر بجوئی ایں چنیں ایماں بود کار بر جوئیندگاں آسان بود لیک تو افتاده در دنیا اسیر تا نمیری کے رہی ہیں وارد گیر تا نمیری اے سنگ دنیا پرست دامن آں یار کے آید بدست نیست شو تا برتو فیضانی رسد جاں بیفشاں تا دگر جانے رسد تو گذاری عمر خود در اکبرو کیں چشم بسته از ره صدق و یقین نیک دل بانیکواں وارد سرے بر گهر تف مے زند بد گوہرے ہست دیں تخم فتارا کاشتن واز سرهستی قدم برداشتن چوں بیفتی باد و صد در و و نفیر کس ہے خیزد که گردد دستگیر با خبر را دل تپد بر بے خبر رحم برکورے کند اہل بصر همچنین قانون قدرت اوفتاد مرضعیفاں را قوی آرد بیاد لے اس نے وفاداری کے ساتھ اپنی جان اپنے محبوب کو دے دی اور اب تک وہ پھتروں کے نیچے دبا پڑا ہے۔راہ صدق و وفا کا یہی طور و طریق ہے اور یہی مردان خدا کا آخری درجہ ہے۔اس زندہ خدا کی خاطر انہوں نے اپنی خودی کو فنا کر دیا اور الہی طریقہ پر جاں نثار کرنے والے بن گئے۔ننگ و ناموس اور جاہ وعزت سے لا پرواہ ہو گئے دل ہاتھ سے جاتا رہا اور ٹوپی سر سے گر پڑی۔خودی سے دور اور یار سے وابستہ ہو گئے کسی (حسین) چہرہ کے لئے عزت قربان کر دی۔ان کا ذکر بھی خدا کی یاد دلاتا ہے وہ خدا کی بارگاہ میں وفادار ہیں۔اگر تو تلاش کرتا ہے تو یا درکھ کہ ایمان ایسا ہوا کرتا ہے۔تلاش کرنے والوں کے لئے یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔لیکن تو دنیا کی (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )