حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 218
حقائق الفرقان ۲۱۸ سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ مَكَيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ غاشیہ کو اللہ کے نام سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو رحمن اور رحیم ہے۔۲۔هَلْ أَتَكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ - ترجمہ۔کیا تجھے ڈھانپنے والی کی خبر پہنچی۔تفسیر۔حَدِیثُ الْغَاشِيَة سے اکثر اہل تفاسیر نے قیامت کے حوادث مراد لئے ہیں۔سلمنا یہ سَلَّمْنَا صحیح بات ہے کہ قیامت کے حوادث اپنے ہولناک ہونے کی وجہ سے غاشیات ہی ہوں گے کہ انسانوں کے ہوش و حواس عقل و فکر سب کچھ مارے جائیں گے۔مگر قرآن کریم کے اسلوب اور اس کے لٹریچر پر نظر کرنے سے یہ پتہ لگتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن شریف میں هَلْ أَنكَ حَدِيثُ كَذَا وَكَذَا آیا ہے وہاں دنیوی عقوبات اُخروی عقوبات کے ساتھ پیوستہ بلکہ مقدم رکھے گئے ہیں جیسا کہ هَلْ أَنكَ حَدِيثُ الْجُنُودِ فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ - البروج: ۱۸) اور هَلْ اَنْكَ حَدِيثُ مُوسى وغيره آيات سے ثابت ہے۔اسی طرح سے جیسا کہ انبیاء سابقین اور ان کی اُمم کے ساتھ جو معاملات ہوئے۔ان کے ہم رنگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی کوئی عظیم الشان عقوبت آسمانی آنے والی تھی۔اس کو هَلُ اكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ میں ذکر فرمایا۔عقوبتیں تو کفار پر بہت سی آئیں۔مگر الفاظ قرآنی کا تتبع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حدیث الغاشیہ قحط شدید تھا۔جو سات سال تک بزمانہ نبوی واقع ہوا تھا۔ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ نے اللَّهُمَّ أَعِلِى عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْح يُوسُفَ ان الفاظ سے دعا کی تھی۔اس دعا کا اثر یہ ہوا کہ وہ قحط شدید پڑا جس کا ذکر سورہ دخان میں ان الفاظ سے ہے۔يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاء بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا لے کیا تجھے لشکروں کی خبر ملی فرعون اور ثمود کے۔۲ اے اللہ تو ان (کفار مکہ ) کے خلاف یوسف علیہ السلام (کے زمانہ ) کے سات ( قحط والے سالوں) کی طرح کے ( قحط والے) سات (سالوں) سے میری مددفرما۔