حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 193
حقائق الفرقان ۱۹۳ سُوْرَةُ القَارِقِ ۲۔سُوْرَةُ الطَارِقِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ طارق کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ عظیم کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ - ترجمہ۔قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔تفسیر۔طرق کے لغوی معنے ٹھونکنے کے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں نجم ثاقب کو اس لئے طارق فرمایا کہ وہ شیاطین کو ٹھوک پیٹ کر کھدیڑتے ہیں۔اور آسمان کے لئے محافظ ہیں۔جب کہ ہر نفس کے محافظ ہیں تو پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضیانت و حفاظت بالا ولی ضروری ہے۔راستہ ٹھونکنے پیٹنے سے اور اقدام کی رفتار سے مضبوط ہو جاتا ہے۔اس لئے طریق کہلاتا ہے۔مسافر لوگوں کے رات کو سور ہنے کے بعد جو دروازہ کو کھٹکھٹائے وہ بھی طارق ہے۔ایک شاعر کا قول ہے۔لے طَرَقْتُ الْبَابَ حَتَّى كَلَّمَتْنِي فَلَمَّا كَلَّمَتَنِي كَلَّمَتَنِي غرض کہ سورۃ شریف کا موضوع پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضیانت اور حفاظت اور آپ کے اعداء کو آپ پر حملہ کرنے سے ٹھوک پیٹ کر دفع کرنا سمجھا جاتا ہے۔اور یہ حفاظت و ذب ودفاع ظاہری اور باطنی دونوں طور سے متصور ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخه ۲۷ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۹) ۴۔- النجم الثاقب - ترجمہ۔وہ چمکدار ستارہ ہے۔تفسیر۔ثاقب: دور کا ستارہ شریا اور تمامی ستارے بھی مراد ہو سکتے ہیں۔کل اصحاب آپ کی ا میں نے دروازہ کھٹکھٹایا یہاں تک کہ وہ مجھ سے ہمکلام ہوئی۔جب اس نے مجھ سے گفتگو کی اس نے مجھے زخمی کر دیا۔