حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 108
حقائق الفرقان ۱۰۸ سُوْرَةُ الدَّهْرِ ہے کہ مرد کی حکومت اس کے سر سے کچھ ہٹ گئی یا ایک عورت کے لئے بہت خاوند ہوں تو کیا عورت کو آرام مل سکتا ہے۔کیا جس کے اوپر بہت سارے حکمران ہوں۔وہ آسودہ حال ہوسکتا ہے۔علاوہ اس کے خاوند کیا آپس میں جنگ نہ کریں گے کیونکہ اگر بہت سارے مرد ایک عورت کے خاوند ہوئے تو ایک وقت ایک چاہتا ہے کہ یہ عورت میرے پاس اور دوسرا چاہے کہ میرے پاس آوے۔اس لئے اول تو وہ آپس میں جوت پیزار کریں گے۔پھر وہ عورت بہر حال مصیبتوں میں مبتلا ہوگی۔نافہم انسان ! سوچ اور غور کر! مگر تم کو غور کا مادہ کیونکر ملے گا۔تمہارا مذہب تو ایسے امور کی پروا نہیں کرتا کیونکہ نیوگ میں ایسے امور بہت پیش آتے ہیں۔سن ! بہشتی نعمتوں میں اسلام بیان کرتا ہے کہ بڑی نعمت خدا کی رضامندی ہے۔دیکھو قرآن کریم وَرِضْوَانَ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ (التوبه : ۲) دَعْوَهُمْ فِيهَا سُبُحْنَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُم فِيهَا سَلَمُ وَأَخِرُ دَعْوبُهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (یونس : ۱۱) اور اللہ کی خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑی ہے۔وہ اللہ کی پاکیزگی بیان کریں گے۔اور آپس میں سلامتی اور صلح سے رہیں گے اور آخری پکاران کی یہ ہوگی کہ حمد ہے اللہ پروردگار کے لئے۔ج پس سچے مسلمان الہی رضامندی کے گرویدہ ہو کر اس کی عبادت کرتے ہیں نہ اس بات کے لئے جس کی نسبت تم نے فضول گوئی کی ہے۔ہاں دنیا کی نعمتیں اور دنیوی عیش و آرام اور دولت مندی آریوں کے اعتقاد میں نیکیوں کا پھل ہے اور ظاہر ہے کہ غلمان بعض دولتمند ہندؤوں کے لوازمات میں داخل ہیں۔پس کیا یقیناً یہ الزام آپ لوگوں پر نہیں ہو سکتا؟ بلکہ جب دیانند کے نزدیک بھی دنیا ہی سورگ اور نیکی کے ثمرات لینے کی جگہ ہے۔گو چند اعمال کے بدلے ارواح چندے شواغل دنیا سے بھی آزادی اور انند میں رہیں گے تو اس صورت میں دیا نندی پنتھ کے مطابق غلمان نیکی کے ثمرات نہیں تو اور کیا ہیں ! بات یہ ہے کہ سخت عداوت کے سبب تمہیں غلمان کا قصہ سمجھ میں نہیں آیا۔یا قرآن کو نہ دیکھا ہے اور نہ سمجھا ہے۔افسوس کہ اس ادعائی تہذیب کے زمانہ میں یہ درشت زبانی ! تمام قرآن کریم کا اردو تر جمہ بھی تم دیکھ لیتے اور تھوڑا سا ما قبل سے پڑھ لیتے تو بشرط انصاف تم ایسے خلاف تہذیب امر