حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 102

حقائق الفرقان ۱۰۲ سُوْرَةُ الدَّهْرِ نشوونما ہوتا ہے۔اگر چند طاقتوں سے کام لینے کو چھوڑ دے تو وہ طاقتیں مردہ یا پھر مردہ ضرور ہو جاتی ہیں۔یہی معنی ہیں جب انسان بدی کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو طاقت کمزور ہو جاتی ہے اور نیکی کے قومی بالکل از کار رفتہ ہوتے ہیں یہ کوئی ظلم نہیں۔اگر کسی حاکم کو حکومت دی جاوے اور وہ فرائض منصبی کو ادانہ کرے تو نگران گورنمنٹ اس کے وہ اختیارات سلب کر دے گی اور اسے معزول کرے گی اور اگر اس حالت کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی پروانہ کرے تو یہ امر عاقبت اندیشی اور عقل کے خلاف ہے کہ ست انسان کے پاس رکھی جاوے ایسے ہی وہ انسان ہے جو ایمانی قوی کو خرچ نہیں کرتا وہ ابرار کے زمرہ میں رہ نہیں سکتا۔جن کے عقائد حقہ ہیں یعنی وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں۔جزا وسزا اور خدا کی کتابوں اور انبیاء علیہم السلام پر ایمان لاتے ہیں پھر ان وسائط کو مانتے ہیں جن کا مقصود اتم فرمانبرداری ہے۔پھر عمل کے متعلق کیا چاہیے۔سب سے زیادہ عزیز مال ہے۔پانچ روپے کا سپاہی پانچ روپیہ کے بدلے میں عزیز جان دے دینے کو تیار ہے۔ماں باپ اس روپیہ کے بدلے اس عزیز چہرہ کو جدا کر دیتے ہیں۔تو معلوم ہوا کہ مال کی طرف انسان بالطبع جھکتا ہے۔لیکن جب خدا سے تعلق ہو تو پھر مال سے بے تعلقی دکھاوے اور واقعی ضرورتوں والے کی مدد کرے۔مسکینوں کو دے جو بے دست و پا ہیں، رشتے داروں کی خبر لے۔کوئی کسی ابتلا میں پھنس گیا ہو تو اس کے نکالنے کی کوشش کرے مگر سب سے مقدم ذوی القربی کو فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوی القربی کے ساتھ سلوک کرنا زیادتی عمر کا موجب ہے۔یتیموں کی خبر لے۔پھر جو بے دست و پاہیں ان کی خبر لے۔پھر جو علم پڑھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے پڑھتے ہیں اور مصیبت میں مبتلا شدہ لوگوں کی خبر لے۔پس جناب الہی کے ساتھ تعلق ہو اور دنیا اور اس کی چیزوں سے بے تعلقی دکھلاوے پھر جناب الہی کی راہ میں جان کو خرچ کرے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جان خرچ کرنے کی پہلی راہ کیا ہے؟ نمازوں کا ادا کرنا ، نماز مومن کا معراج ہے۔نماز میں ہر قسم کی نیازمندیاں دکھائی گئی ہیں۔غرض کا فوری شراب پیتے پیتے انسان اس چشمہ پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے شفقت علی خلق اللہ کی توفیق دی جاتی ہے۔