حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 101
حقائق الفرقان 1+1 سُوْرَةُ الدَّهْرِ فرمانبرداری ان سے صادر ہوتی ہے۔تیسر اسابق بالخیرات اور اعلیٰ درجہ کے آدمیوں کا گروہ ہے جونفس امارہ پر بکی فتحیاب ہو کرنیکیوں میں آگے نکل جانیوالے ہیں۔غرض سلوک کی راہ میں مومن کو تین درجے طے کرنے پڑتے ہیں۔پہلے درجہ میں جب بدی کی عادت ہو تو اس کے چھوڑنے میں جان پر ظلم کرے اور اس قوت کو دباوے شراب کا عادی اگر شراب کو چھوڑے گا تو ابتدا میں اس کو بہت تکلیف محسوس ہوگی۔شہرت کے وقت عفت سے کام لے اور قوائے شہوانیہ کو دبا دے۔اسی طرح جھوٹ بولنے والا ست، منافق راستبازوں کے دشمنوں کو بدیاں چھوڑنے کے لئے جان پر ظلم کرنا پڑے گا تا کہ یہ اس طاقت پر فاتح ہو جاویں۔بعد اس کے میانہ روی کی حالت آوے گی کبھی کبھی بدی کے چھوڑنے میں گوکسی وقت کچھ خواہش بد پیدا بھی ہو جاوے۔ایک لذت اور سرور بھی حاصل ہو جایا کر یگا مگر تیسرے درجہ میں پہنچ کر سابق بالخیرات ہونے کی طاقت آجاوے گی اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی بارش ہونے لگے گی اور مکالمہ الہی کا شرف عطا ہوگا۔تو سب سے پہلے ابرار کو کا فوری شربت دیا جاوے گا تا کہ بدیوں اور رذائل کی قوتوں پر فتح مند ہو جاویں۔اور اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ بدیوں کو دباتے دباتے نیکیوں میں ترقی کرتا ہے اور پھر وہ ایک خاص چشمہ پر پہنچ جاتا ہے۔عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِرُونَهَا تفجيرا وہ ایک چشمہ ہے کہ اللہ کے بندے اُس سے پیتے ہیں صرف خود ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ دوسروں کو بھی مستفید کرتے ہیں اور ان چشموں کو چلا کر دکھاتے ہیں۔فطرۃ انسانی پر غور کرنے سے پتا لگتا ہے کہ تمام قومی پہلے کمزوری سے کام کرتے ہیں چلنے میں، بولنے میں ، پکڑنے میں غرض ہر بات میں ابتداء لڑکپن میں کمزوری ہوتی ہے۔لیکن جس قدر ان قومی سے کام لیتا ہے اسی قدر طاقت آجاتی ہے۔پہلے دوسرے کے سہارے سے چلتا ہے پھر خود اپنے سہارے چلتا ہے۔اسی طرح پہلے تلا کر بولتا پھر نہایت صفائی اور عمدگی سے بولتا ہے پکڑتا ہے وغیرہ وغیرہ گویا بتدریج