حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 96

حقائق الفرقان ۹۶ سُوْرَةُ الدَّهْرِ سے متبدل ہو جاتی ہے۔پھر اگر کوئی احکم الحاکمین کی بتائی راہ اپنا دستورالعمل نہ بناوے تو کیونکر دکھوں اور ذلتوں سے بچ سکتا ہے۔یاد رکھو کہ حکم حاکم کی نافرمانی حسب حیثیت حاکم ہوا کرتی ہے۔یہ ذلت بھی اسی قدر ہوگی جس قدر کہ حاکم کے اختیارات ہیں۔دنیا کے حاکم جو محدو دحکومت رکھتے ہیں ان کی نافرمانی کی ذلت بھی محدود ہی ہے مگر خدا تعالیٰ جو غیر محدود اختیارات رکھتا ہے اس کے حکم کی خلاف ورزی میں ذلت بھی طویل ہوگی۔گو یہ سچ ہے کہ سَبَقَتْ رَحميی علی غضبنی میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے مگر جیسی کہ اس کی طاقتیں وسیع ہیں اسی انداز سے نافرمان کی ذلت بھی ہونی چاہیے۔اور ہوگی ہاں بہت سی سزا ئیں ایسی ہیں کہ انسان ان کو دیکھتا ہے اور بہت سی سزائیں ہیں کہ ان کو نہیں دیکھ سکتے تو غرض یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خدا کے قانون اور حکم کی اگر پرواہ نہ کریں گے تو کیا نقصان ہے؟ نہیں نہیں خبر دار ہو جاؤ۔مولیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَأَغْلَلاً وَسَعِيرًا۔منکر کو تین قسم کی سزا دیں گے۔ہر ایک انسان کا جی چاہتا ہے کہ میں آزادر ہوں جہاں میری خواہش ہو وہاں پہنچ سکوں پھر چاہتا ہے کہ جہاں چاہوں حسبِ خواہش نظارہ ہائے مطلوبہ دیکھوں اور آخر جی کو خوش کروں کہیں جانا پڑے تو جاؤں اور کہیں سے بھاگنا پڑے تو وہاں سے بھاگوں اور کسی چیز کو دیکھنا پڑے تو اسے دیکھوں بہر حال اپنا دل ٹھنڈا رکھوں۔پس یہ تین عظیم الشان امور ہیں اگر کہیں جاتا ہے تو منشا ہے کہ دل خوش ہو کسی کو دیکھتا ہے تو اس لئے کہ جان کو راحت ملے۔نتیجہ بہر حال دل کی خوشی ہے مگر جب انسان خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کرتا ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اولاً تین ہی نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔عطاء وجود، عطاء سمع ، عطاء بصر۔ان نعمتوں سے اگر کوئی جاتی رہے تو کیا سچی خوشی اور حقیقی راحت مل سکتی ہے کبھی نہیں۔پھر خاص الخاص نعمت جو انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ لی ہے اس کے انکار سے کب راحت پاسکتا ہے؟ قانونِ الہبی اور شریعت