حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 95

حقائق الفرقان ۹۵ سُوْرَةُ الدَّهْرِ ایک امام اس ہدایت کے بتلانے کے لئے مبعوث فرمایا اور اس کو اور اس کے اقوال کو تائیدات عقلیہ اور نقلیہ وآیات ارضیہ وسماویہ سے مؤید فرما کر روز بروز ترقی عطا کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس طرح الہی ہاتھ ایک انسان کی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح آئے دن اس کے اعداء نیچا دیکھتے ہیں۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔ہاں تو پھر خدا کی ایک ممتاز جماعت ہمیشہ اپنے اقوال سے اس راہ کو بتلاتی اور اپنے اعمال سے نمونہ دکھلاتی ہیں۔جس سے ابدی آرام عطا ہو۔پھر دیکھو کہ انعام الہی تو ہوتے ہیں مگر ان انعامات کو دیکھنے والے دو گروہ ہوتے ہیں اِمَا شَاكِراً وَ اِمَا كَفُورًا ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان ہدایات کی قدر کرتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں جو قدر نہیں کرتے ہیں۔اور ان دستوروں پر عمل درآمد نہیں دکھاتے۔ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے۔ایک گروہ جو سعادتمندوں کا گروہ ہوتا ہے ان پاک راہوں کی قدر کرتا ہے اور اپنے عملدرآمد سے بتلا دیتا ہے کہ وہ فی الحقیقت اس راہ کے چلنے والے اور اس راہ کے ساتھ پیار کرنے والے ہیں اور دوسرے اپنے انکار سے بتلا دیتے ہیں کہ وہ قدر نہیں کرتے یہ قرآن شریف جب آیا۔اور ہمارے سید و مولی رسول اکرم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم اور پھر اپنے کامل اور پاک نمونہ سے ہدایت کی راہ بتلائی۔بہت سے نابکارسعادت کے دشمن انکار اور مخالفت پر تل پڑے اور جو سعادت مند تھے وہ ان پر عمل کرنے کے لئے نکلے اور دنیا کے سرمایہ فخر وسعادت اور راحت و آرام ہوئے اور ان کے دشمن خائب و خاسر اور ہلاک ہوئے آخر وہ سعادت کا زمانہ گزر گیا۔دور کی باتیں کیا سناؤں۔گھر کی اور آج کی بات کہتا ہوں۔اب بھی اسی نمونہ پر ایک وقت لا یا گیا۔اور وہی قرآن شریف پیش کیا گیا ہے۔مگر سعادتمنوں نے قدر کی اور ناعاقبت اندیش نابکاروں نے ناشکری اور مخالفت۔مگر نادان انسان کیا یہ مجھتے ہیں کہ انعام الہی کی ناقدری کرنے سے ہم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی اور ان کا یہ خیال غلط ہے۔دنیوی حکومت میں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی حاکم کا حکم آ جاوے اور پھر رعا یا اس حکم کی تعمیل نہ کرے تو سزایاب ہوتی ہے۔نہ ماننے والوں کا آرام رنج سے اور ان کی عزت ذلت