حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 72
حقائق الفرقان ۷۲ سُوْرَةُ الزُّمَرِ جو نیکی کریں ان کے واسطے اسی قریب جگہ میں ہی (یعنی دنیا ہی میں ) نیکی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے۔اس کے سوا نہیں کہ صبر کرنے والوں کو پورا پورا دیا جائے گا ان کا اجر بے حساب۔تفسیر۔خداوند تعالیٰ کے اوامر کا پابند بنا اور نواہی سے اپنے آپ کو بچانا یہ بھی تقوی کے ایک معنے ہیں۔یہ نہایت لغو خیال ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا میں ذلیل ہی رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لِلهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ (منافقون: 9) سکھ دنیا میں سات قسم کے ہوتے ہیں۔ایک سکھ انسان کی ذات کے ساتھ وابستہ ہے۔مثلاً اگر انسان میں حرص نہ ہو تو یہ ایک سکھ ہے۔ایسے ہی اگر غضب کا مادہ ہم میں نہ ہو تو سکھ ہے۔اسی طرح شہوت نہ ہو تو بدنظری اور خیالات سے آزاد۔میں نے جریان کے مریضوں میں ۹۵ فیصدی ایسے دیکھے ہیں۔جو بد نظری اور خیالی جماعوں کے باعث مبتلا ہوئے۔جھوٹ نہ بولے تو بے اعتباری کا داغ اس سے اٹھ جاتا ہے۔کا ہلی اور ستی کو چھوڑے۔دوسرا سکھ یہ ہے کہ بیوی نیک ہو غمگسار ہو۔تیسر ا سکھ ماں باپ بہن بھائی وغیرہ رشتہ داروں کی طرف سے۔چوتھا سکھ برادری کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں۔پانچواں سکھ غیر قوم اور اپنی قوم سے۔چھٹا بادشاہ سے تعلق اچھا ہو یعنی گورنمنٹ کی اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ساتواں مرتبہ سکھ کا یہ ہے کہ حضرت حق سبحانہ تعالیٰ سے تعلقات اچھے ہوں۔جہاں انسان کا دین مذہب اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات بگڑتے ہوں تو انسان کو چاہیے کہ اس مکان کو یا اس شہر یا اس ملک کو چھوڑ دے۔پس اگر تم اپنی ذات ، اپنی بیوی ، ماں باپ ، اپنی قوم ، اپنے خدا کے نزدیک بڑا بننا چاہتے ہو تو اپنے تعلقات کوسدھارو۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۶) ١٩ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَبِكَ الَّذِينَ هَلْ لَهُمُ اللهُ وَ أُولَبِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ - ترجمہ۔جو بات سنتے ہیں اور اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے کامیابی کی راہ دکھا دی اور یہی عقل مند ہیں۔وو