حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 61
حقائق الفرقان پہنچ جاؤ۔۶۱ سُوْرَةُ صَ ( تفخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۷۸) حضرت ایوب کے صبر کا بیان کیا ہے۔انبیاء علیہم السلام خدا کے حضور بڑے ادب سے کام لیتے ہیں وہ کسی دکھ کو اس کی طرف منسوب نہیں کرتے۔جب وہ خدا کے حضور اپنی تکالیف کے متعلق گڑ گڑائے تو ارشاد ہوا۔اركض برجلك۔اپنی سواری کو اس سرزمین کی طرف لے چل جہاں آپ کیلئے آرام کے سامان مہیا ہیں اور وہاں اہل و عیال اور احباب اس کی مثل دیئے جاویں گے۔اور اپنی سواری کو درخت کی ایسی شاخوں سے جس کے ساتھ پیتے بھی ہوں چلائے جا۔مگر اسے ضرر نہ پہنچا۔یہ دراصل ایک پیشگوئی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی معاملہ پیش آنے والا تھا۔چنانچہ آپ نے بھی مکہ سے ہجرت فرمائی اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے بہت سے اہل اور وفادار احباب پائے۔اب بھی جو خدا کی راہ میں ہجرت کرے۔اس کے لئے امن و آسائش بموجب وعده الى يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرغَبًا كَثِيرًا وَسَعَةً - (النساء: ١٠١) موجود ہے اور ہرگز خیال نہ کرے کہ اگر میں اپنا گھر یا اپنے رشتہ دار چھوڑ کر جاؤں گا تو نقصان اٹھاؤں گا۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کو بہتر سے بہتر احباب اصحاب اور رشتہ دار دے گا۔تشخیذ الا ذہان جلدے نمبر ۲۔ماہ فروری ۱۹۱۲ ء صفحہ ۸۸) ۴۴ ۴۵ - وَ وَهَبْنَا لَةَ اَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ وَخُذُ بِيَدِكَ ضِعْنَا فَاضْرِبُ بِهِ وَلَا تَحُنَتْ إِنَّا وَجَدْنَهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ - ترجمہ۔اور ہم نے اس کو دیئے اس کے گھر والے اور اتنے ہی اور دیئے اپنی طرف سے مہربانی فرما کر اور یادگار ہے عقل مندوں کے لئے۔اور حکم دیا کہ تو ایک کا ڑیوں کا منتٹھا پکڑ پھر اس سے مار اس کو اور قسم کے خلاف نہ کر۔ہم نے اس کو پایا صابر۔بڑا اچھا بندہ تھا اور بے شک وہ بڑا رجوع بحق کرنے والا تھا۔لے وہ زمین میں بہت کشاکش پائے گا اور بڑی جگہ۔