حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 36

حقائق الفرقان ۳۶ سُوْرَةُ الصَّفْتِ ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔99 برس کی عمر تھی۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولا د صالح عنایت کی۔اسمعیل جیسی اولا د عطا کی۔جب اسمعیل جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دے دو۔اب ابراہیم علیہ السلام کی قربانی دیکھو۔زمانہ اور عمروہ کہ ۹۹ تک پہونچ گئی۔اس بڑھاپے آئندہ اولاد کے ہونے کی کیا توقع اور وہ طاقتیں کہاں؟ مگر اس حکم پر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں ، ساری امیدیں اور تمام ارادے قربان کر دیئے۔ایک طرف حکم ہوا۔اور معا بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا۔پھر بیٹا بھی ایسا سعید بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرما یا بیٹا ! اني أرى فِي الْمَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ تو وہ بلا چون و چرا یونہی بولا کہ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصّبِرِین ابا ! جلدی کرو۔ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ خواب کی بات ہے۔اس کی تعبیر ہو سکتی ہے۔مگر نہیں۔کہا۔پھر کر ہی لیجئے۔غرض باپ بیٹے نے ایسی فرماں برداری دکھائی کہ کوئی عزت ، کوئی آرام ، کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی۔یہ آج ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں۔مگر دیکھو کہ اس میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور اس کے بیٹے کو کیا جزا دی۔اولاد میں ہزاروں بادشاہ اور انبیاء۔۔۔۔۔۔پیدا کئے۔وہ زمانہ عطا کیا جس کی انتہا نہیں۔خلفاء ہوں تو وہ بھی ملت ابراہیمی میں سارے نواب اور خلفاء الہی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہونے والے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۴) یہ دن ( عید الاضحی) بھی ایک عظیم الشان منتقی کی یادگار ہیں۔اس کا نام ابراہیم تھا۔اس کے پاس بہت سے مویشی تھے۔بہت سے غلام تھے اور بڑھاپے کا ایک ہی بیٹا تھا۔فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يبنى اني ارى في المَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَا ذَا تَری۔سو برس کے قریب کا بڑھا ایک ہی بیٹا ، اپنی ساری عزت ، ناموری ، مال ، جاہ و جلال اور امیدیں اسی کے ساتھ وابستہ۔دیکھو متقی کا کیا کام ہے۔اس اچھے چلتے پھرتے جوان لڑکے سے کہا۔میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کروں بیٹا بھی کیسا فرماں بردار بیٹا ہے۔قالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ 6