حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 445
حقائق الفرقان ۴۴۵ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ کے رنگ میں بیان فرمائے ہیں۔قرآن شریف میں جہاں کہیں قسموں کا ذکر ہوتا ہے۔اس کی تہہ میں کوئی نہ کوئی بڑی بڑی حکمت خدا تعالیٰ نے رکھی ہوتی ہے۔وہ حکمت جاہلوں ، عالموں ، صوفیوں سب کے لئے ہوتی ہے اور سب کے واسطے یہ قسمیں فائدہ بخش ہوتی ہیں۔عام لوگوں کی فطرتوں میں اور بالخصوص اہلِ عرب کے دلوں میں یہ بات مرکوز ہے کہ جو شخص جھوٹی قسمیں بہت کھاتا ہے وہ برباد ، ذلیل ، ناکام اور نامراد ہوجاتا ہے۔ایک طرف تو مشرکین عرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافر سمجھتے تھے۔دوسری طرف ان کی زبان سے یہ قسمیں سنتے تھے۔اس سے ثابت ہوا کہ یہ قسمیں کھانیوالا اگر جھوٹا ہوتا تو ضرور تباہ ہو جاتا۔لیکن جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامیابیاں دن بدن ترقی پذیر تھیں تو ان سے ثابت ہوا کہ یہ راست باز ہے۔فلاسفروں کو ان قسموں سے یہ فائدہ ہوا کہ جہاں کہیں قرآن کریم میں قسم کھائی جاتی ہے۔اس کی تہ میں فلسفیانہ ثبوت ضرور ہوتا ہے۔اس جگہ فَلا أقسم میں یہ بات ہے کہ نبی کریم کے ساتھ اہلِ عرب میں سے کس قسم کے اور کس مزاج کے لوگ شامل ہوتے تھے اور کس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے لوگ جمع ہوتے رہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا نہیں کہ تم میں سے کام کے شخص۔۔۔۔اس کے ساتھ ملتے جاتے ہیں۔آیا اس کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے یا نہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ۔قسم قائمقام شہادت کے ہوتی ہے۔اور قرآن شریف کی قسمیں ان امور پر دلائل ہیں جن کے لئے وہ کھائی گئی ہیں۔مرئی اور مشہود اشیاء اور غیر مرئی اشیاء غرض تجمیع الاشیاء یہ شہادت پیش کی گئی ہے کہ یہ نبی سچا رسول ہے۔شَاعِر - شخص شاعر نہیں کیونکہ شاعر منہ سے کہتا ہے۔خود کرتا کچھ نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تعلیم پیش کی خود اس پر عمل کر کے دکھا دیا۔