حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 398

حقائق الفرقان ۳۹۸ سُوْرَةُ الْمُلْكِ تحریک نیک اور رغبت پسندیدہ کا وقوع کیوں ہوا؟ آیا بلا سبب اور اتفاقی طور پر؟ یہ تو باطل ہے۔کیونکہ تجارب نے اس کو باطل ٹھہرایا ہے۔پس لامحالہ نیکی کا محرک ضرور ہے۔اسی نیکی کے محرک کو اسلامی کتب اور شریعت میں ملک کہتے ہیں۔اور ان کے اس تعلق وتحریک کوله الملك کہا گیا ہے۔وہ ملک لطیف اور پاک روحیں ہیں جنہیں قلوب انسانی سے تعلق ہوتا ہے اور ہر وقت قلوب کی تحریک میں لگے رہتے ہیں۔اور ان کے مدمقابل اور ان کی تحریک کے مخالف شیاطین اور ابلیسوں کی روحیں ہیں۔جو بدی اور بدکاری کی محرک ہیں۔ان کے اس تعلق کا نام لِئَةُ الشَّيْطَان ہے۔ایمان بالملائکہ کے معنے اور اس کا فائدہ۔شریعت اسلام میں حکم ہے کہ فرشتوں پر ایمان لاؤ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جب وہ تم کو نیکی کی تحریک کریں تو معا اسی وقت کر لو تو کہ اس نیکی کے محرک کا تعلق تم سے بڑھے اور وہ زیادہ نیکی کی تحریک دے بلکہ اس کی جماعت کے اور ملائکہ بھی تمہارے اندر نیکی کی تحریکیں کریں اور اگر اس تحریک کو نہ مانو گے۔تو اس ملک نیکی کے محرک کو تم سے نفرت ہو جائے گی۔اس لئے ضروری ہوا کہ ملائکہ سے تعلق بڑھاؤ تو کہ نیکی کی تحریک بڑھے اور آخر وہ تمہارے دوست بن جاویں۔قرآن کریم میں اس نکتہ کو یوں بیان فرمایا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ : - حم السجدة: ۳۱-۳۲) ترجمہ۔جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس اقرار پر پختہ ہو گئے۔ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ نہ ڈرو اور نہ غمگین ہو۔اور خوشی مناؤ اس جنت کی کہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔نہ نیم ہم دنیا میں اور آخرت میں تمہارے ساتھی ہیں اور فرمایا ہے۔وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّةٌ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (الانفال: ۲۵) اور یقین جانو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان روک ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے۔