حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 397

حقائق الفرقان میں بڑی حکمتیں ہوں۔۳۹۷ سُوْرَةُ الْمُلْكِ اب تیسرا امر جو اس مضمون میں مجھے بیان کرنا ہے۔یہ ہے کہ الہامی مذاہب قائل ہیں کہ دیوتا۔ملک اور فرشتے موجود ہیں اور ان کا ماننا ضروری ہے کیونکہ الہی کلام میں ان کا ذکر ہے۔اور شیاطین اور جن بھی ہوتے ہیں اور ان کی مخالفت کرنا ضروری ہے۔میں بھی الہامی مذہب اسلام کا معتقد ہوں اور اس کی کتاب میں پاتا ہوں۔امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَيكَتِهِ (البقرة : ۲۸۲) ترجمہ: رسول ایمان لایا اس پر جو اتارا گیا اس کی طرف اس کے رب سے اور مومن بھی سب کے سب ایمان لائے اللہ اور اس کے فرشتوں پر۔اس لئے میں فلاسفروں ، سائنس دانوں ، برہموؤں اور آریہ سماجیوں کے لئے ایک دلیل وجود ملائکہ پر اور ان پر ایمان لانے کی ضرورت کی وجہ بیان کرتا ہوں۔شاید کوئی رشید سعادتمند اس پر توجہ کرے۔سب سے پہلے میرے نزدیک ہزاروں ہزار انبیاء ورسول جور است بازی میں ضرب المثل تھے اور ان کے مخلص اتباع کا اعتقاد اس بارے میں کہ ملائکہ اور شیاطین ہیں بہت بڑی دلیل ہے۔مگر ایک دلیل مجھے بہت پسند آئی ہے جسے میں پیش کرتا ہوں اور دلیری سے میں پیش کرتا ہوں کیونکہ وہ میرے بار بار کے تجارب میں آچکی ہے اور وہ یہ ہے۔تمام عقلاء میں یہ امر مسلم ہے۔کہ اس زمین کا کوئی واقعہ بدوں کسی سبب کے ظہور پذیر نہیں ہوتا۔بلکہ صوفیائے کرام اور حکمائے عظام اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی امر حقیقت میں اتفاقی نہیں ہوا کرتا۔تمام امور علل اور حکم سے وابستہ ہوتے ہیں۔اب میں پوچھتا ہوں کہ تنہائی میں بیٹھے بیٹھے نیکی کا خیال بدوں کسی تحریک کے کیوں اٹھتا ہے۔بلکہ بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ ارد گرد بد کار بدیوں کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ بدی کے عین ارتکاب و ابتلا میں ان کو نیکی کی تحریک اور رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔کوئی بتائے کہ اس