حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 382
حقائق الفرقان ۳۸۲ سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ رسوا نہ کرے گا نبی کو اور ایمانداروں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ان کا نور ان کے آگے آگے اور سیدھی طرف دوڑ رہا ہوگا عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہمارا نور پورا کر دے اور ہماری عیب پوشی کر اور حفاظت فرما بے شک تو ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔تفسیر۔نَصُوحا - خالص توبہ نصوح کے معنے ہیں۔خالص رجوع۔اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع۔کرنا مومن کا کام ہے۔اس میں فرمایا ہے کہ خالص تو بہ کا یہ نتیجہ ہوگاکہ تم پچھلی بدیوں کے برے نتائج سے محفوظ رہو گے اور آئندہ بدیوں کے جوش کو دبا سکو گے اور ایک نور تمہیں دیا جائے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے اور ہر قسم کی ٹھو کر اور لغزش سے محفوظ رہو گے۔ط - يَايُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ، وَمَأولهم جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ - ترجمہ۔اے نبی ! خوب کوشش کر کافروں اور منافقوں سے مقابلہ میں ) اور ان پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا تو جہنم ہے اور وہ بُری جگہ ہے۔تفسیر۔اس آیت میں منافقوں سے جہاد کا حکم ہوا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ منافق ظاہر ہو چکے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھے۔اگر ظاہر نہ ہوتے تو ان کے ساتھ جہاد کیونکر ہو سکتا تھا۔اگر شیعوں کے کہنے کے مطابق عمر منافق تھا۔تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لازم تھا بلکہ ان پر فرض تھا کہ اس آیت کے ماتحت ان کے ساتھ جہاد کرتے۔مگر انہوں نے نہیں کیا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۳٬۲ مورخه ۹ /نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۶۸) ا - ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ اللَّهِ خِلِينَ - ترجمہ۔اللہ نے مثال بیان فرمائی کافروں کے لئے نوح کی جورو اور لوط کی جورو کی جو ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں پھر ان عورتوں نے خیانت کی تو وہ دونوں اللہ کے مقابلہ میں ان کے