حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 338
حقائق الفرقان بادشاہوں کا ہاتھ خوب بٹایا۔۳۳۸ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ دوسرا گروہ متکلمین کا ہے جن میں امام ابوالمنصور الما تریدی، الامام ابوالحسن الاشعری، ابن حزم، امام غزالی، امام رازی، شیخ تیمیہ، شیخ ابن قیم رحمہم اللہ ہیں، تیسرا گروہ جنہوں نے احسان کو بیان کیا ہے۔ان میں سید عبدالقادر جیلانی بڑا عظیم الشان انسان گزرا ہے۔ان کی دو کتا بیں بہت مفید ہیں۔ایک فتح الربانی۔دوم فتوح الغیب۔دوسرا مرد خدا شیخ شہاب الدین سہروردی ہے۔جنہوں نے عوارف لکھ کر مخلوق پر احسان کیا ہے۔تیسرا آدمی جس کے بارے میں بعض علماء نے جھگڑا کیا ہے۔مگر میں تو اچھا سمجھتا ہوں۔شیخ محی الدین ابن عربی ” ہے۔پھر ان سے اتر کر امام شعرانی " گزرے ہیں پھر محمد انصاری ہیں۔ہزار صدی کے بعد شاہ ولی اللہ صاحب ہیں۔مجد دالف ثانی ہیں۔ان لوگوں نے اپنی تصنیف پر زور دیا ہے۔مگر صرف روحانیت سے۔ہندوستان میں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا نام سکھایا ہے۔ان میں حضرت معین الدین چشتی ہیں۔حضرت قطب الدین بختیار کا کی ہیں۔حضرت فرید الدین شکر گنج ہیں۔حضرت نظام الدین محبوب الہی ہیں۔حضرت نصیر الدین چراغ دہلی ہیں۔رحمہم اللہ۔یہ سب کے سب خدا کے خاص بندے تھے۔ان کی تصانیف سے پتہ لگتا ہے۔کہ ان کو قرآن شریف واحادیث سے کیا محبت تھی۔نبی کریم محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا تعلق تھا۔یہ بے نظیر مخلوقات تھی۔بڑا بد بخت ہے وہ جو ان میں سے کسی کے ساتھ نقار رکھتا ہو۔یہ باتیں میں نے علی وجہ البصیرت کہی ہیں۔ایک نکتہ قابل یا دسنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش کے رُک نہیں سکا۔وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا۔ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے ۷۸ برس تک انہوں نے خلافت کی ۲۲ برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔یہ بات یادرکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے۔( بدر - جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۲۷ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۹)