حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 326
حقائق الفرقان ۳۲۶ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ضرورتیں داعی ہو رہی ہیں کہ ایک مزکی اور مطہر انسان قرآن کریم کے حقائق و معارف بیان کر کے اس ہدایت کو لوگوں تک پہنچا دے۔جو قرآن شریف میں موجود ہے۔یہ کام اس کا ہے کہ وہ ہدایت کی اشاعت کرے۔جب یہ ضرورت ثابت ہے تو پھر اس امر کا پتہ لگانا کچھ بھی مشکل نہیں ہو سکتا کہ وہ مزکی آیا ہے یا نہیں؟ میں کہتا ہوں کہ وہ مز کی آگیا اب اس کی صداقت کا جانچنا باقی رہتا ہے۔اس کے لئے قرآن شریف اور منہاج نبوت کامل معیار ہے۔اس سے دیکھ لو۔اس کی سچائی خود بخود کھل جاویگی اور عقلی دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور تائیدات سے اسے شناخت کرلو۔کسوف و خسوف کا کس قدر عظیم الشان نشان موجود تھا مگر دیکھنے والوں میں سے سب نے فائدہ اٹھایا؟ ہرگز نہیں۔اس کے پورا نہ ہونے سے پہلے تو اسے صحیح قرار دیتے تھے مگر جب وہ پورا ہو گیا تو روایت کی صحت میں شبہ کرنا شروع کر دیا۔حقیقت میں جب انسان تعصب اور ضد سے کام لیتا ہے اور ایک بات مانتی نہیں چاہتا تو اس کی بہت سی تو جیہیں نکالتا ہے اور اپنے خیال کے موافق عذرات تراش لیتا ہے۔چونکہ انسان کی قوتیں دن بدن آگے بڑھتی ہیں۔اس لئے وہ خیالات ترقی کرتے جاتے ہیں۔دیکھو میں کل جس عمر کا تھا آج اُس سے ایک دن بڑا ہوں۔اسی طرح دیکھ لو۔پچھلے حصہ زندگانی پر جس قدر غور کرو گے اور جتنا پیچھے جاؤ گے۔اسی قدر تمہیں نمایاں فرق نظر آئے گا کہ کمزوری بڑھتی گئی ہے۔دیکھو پہلے بول نہ سکتا تھا۔پھر بولنے لگا اور اپنی مادری زبان میں کلام کرنے لگا۔پھر یہاں تک ترقی کی کہ اردو بولنے لگا اور پھر یوما فیوماً اس میں بھی ترقی کی۔یہاں تک کہ اب اپنی زبان میں مسلسل دو چار فقرے بھی ادا نہیں کر سکتا۔ایک بار حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے پنجابی زبان میں وعظ کرنے کا حکم دیا۔میں دو چار فقروں کے بعد ہی پھر اردو بولنے لگا۔اسی طرح دیکھ لو کہ ہر صورت میں انسان ترقی کرتا ہے۔بچپن کے زمانہ میں جو کپڑے کام آتے تھے اور خوبصورت اور ٹھیک موزوں تھے۔آج میں ان کو نہیں پہن سکتا۔یہی نہیں کہ وہ میرے بدن پر نہیں آ سکیں گے بلکہ بہت ہی بڑے ہوں گے۔