حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 325
حقائق الفرقان ۳۲۵ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ہے۔اس شخص نے جب آپ کو مولوی کر کے پکارا تو مجھے بہت برا معلوم ہوا۔لیکن جب آپ کی باتیں سنیں تو مجھے اُن سے بڑا اثر ہوا۔میں نے پوچھا کہ مولویوں سے تمہیں نفرت ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے لدھیانہ میں ایک مولوی صاحب کا وعظ سنا اس نے دریائے نیل کے فضائل میں بیان کیا کہ وہ جَبَلُ الْقَمَر سے نکلتا ہے۔اور اس کے متعلق کہا کہ چاند کے پہاڑوں سے آتا ہے۔میں نے اس پر اعتراض کیا تو مجھے پٹوایا گیا۔اس وقت مجھے اسلام پر کچھ شکوک پیدا ہو گئے۔اور میں عیسائی ہو گیا بہت عرصہ تک میں عیسائی رہا۔پھر ایک دن پادری صاحب نے مجھے کہا کہ ایک نئی تحقیقات ہوئی ہے۔دریائے نیل کا منبع معلوم ہو گیا ہے۔اور اس نے بیان کیا کہ جبل القمر ایک پہاڑ ہے وہاں سے دریائے نیل نکلتا ہے۔میں اس کو سن کر رو پڑا۔اور وہ سارا واقعہ مجھے یاد آ گیا۔ایک عیسائی نے مجھے مسلمان بنا دیا۔اور ایک مولوی نے مجھے عیسائی کیا۔اس وجہ سے میں ان لوگوں سے نفرت کرتا تھا۔مگر آپ اُن میں سے نہیں ہیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اس کی یہ کہانی سن کر میرے دل پر سخت چوٹ لگی کہ اللہ ! مسلمانوں کی یہ حالت ہے۔غرض اس وقت مسلمانوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے اور اس پر بھی ان کو کسی مزکی کی ضرورت نہیں ! (احکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخه ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲، صفحه ۱۴۴۱۳) غرض یہ حالت اس وقت اسلام کی ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ مزکی کی ضرورت نہیں قرآن موجود ہے میں پوچھتا ہوں۔اگر قرآن ہی کی ضرورت تھی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن شریف کے آنے کی کیا حاجت تھی کسی درخت کے ساتھ لٹکا لٹکا یا مل جاتا؟ اور قرآن شریف خود کیوں یہ قید لگاتا ہے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَيُزَكّيهِمُ وغیرہ۔میں سچ کہتا ہوں کہ معلم اور مزکی کے بدوں قرآن شریف جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت غیر مفید ہوتا۔آج بھی غیر مفید ہوتا۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ سے یہ طریق پسند فرمایا ہے کہ وہ انبیاء ومرسلین کے ذریعہ ہدایت بھیجتا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ہدایت تو آ جاوے مگر انبیاء و مرسلین نہ آئے ہوں۔پس اس وقت جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اور مختلف پہلوؤں سے میں نے دکھایا ہے۔