حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 312 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 312

حقائق الفرقان ۳۱۲ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ بد۔اب مطالعہ کرتے کہ کیا وہ اعمال ان مسلمہ نیکیوں اور صداقتوں کے موافق ہیں یا مخالف ہیں۔اگر اس کی مانی ہوئی نیکیاں اور ہیں اور نیک اعمال فی نفسہ اور ہیں تو اس کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوتی کہ یہ پہلا اختلاف مٹنا چاہیے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۵،۱۴) پھر اس اختلاف کے بعد اگر اور بلند نظری سے کام لے تو اس کو بہت بڑا اختلاف ان لوگوں میں نظر آئے گا جو بخیال خویش و بزعم خودا کا بران ملت اور علماء امت بنے ہوئے ہیں۔ان کے باہمی اختلاف کو چھوڑ کر اگر خود ان کی حالت پر نظر کی جاوے۔تو ان کے قول اور فعل میں بُعد عظیم پایا جائے گا۔اسی کو زیر نظر رکھ کر ایک پارسی شاعر نے کہا ہے مشکلی دارم ز دانشمند مجلس باز پرس توبہ فرمایاں چرا خود تو به کمتر می کنند لے یہ واعظ ، یہ معلم الخیر ہونے کے مدعی ، صوفی اور سجادہ نشین چرا خود تو به کمتر می کنند کے مصداق ہیں۔یہاں تک تو وہ شاعر عقل و دانش کی حد کے اندر ہے۔اس سے اور آگے چل کر کہتا ہے۔واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می ک کنند بچوں بخلوت می روند آن کار دیگر می کنند یہ گواہی جو اس پارسی بان شاعر نے دی ہے کوئی مخفی شہادت نہیں بلکہ واعظوں، صوفیوں ، سجادہ نشینوں تک پہنچی ہوئی ہے۔کیونکہ ان کی مجلس وعظ یا مجلس وجد و حال و قال کے لئے اس کے شعر ضروری ہیں۔اور ہر ایک مسلمان جو کبھی کبھی اپنی مشکلات اور مصائب میں پھنس کر بے قرار ہوتا ہے تو بد قسمتی سے اسی لسان الغیب کا فال لینے کی طرف توجہ کرتا ہے۔اور یوں اپنے اوپر اس دورنگی اور اختلاف کا جو واعظوں اور معلم الخیر کے مدعیوں میں ہے ایک گواہ ٹھیرتا اور اپنے اوپر حجت ملزمہ قائم کرتا ہے۔اب ان ساری باتوں کو یکجائی نظر سے دیکھو اور غور کرو کہ کیا یہ علمی اور عملی یا ایمانی اور عملی اختلاف کسی لے میری اس مشکل کو اہل علم کی مجلس سے حل کرواؤ۔کہ توبہ کا درس دینے والے لوگ خود کیوں نہیں تو بہ کرتے۔یہ واعظ لوگ جو محراب و منبر پر جلوہ افروز ہوتے ہیں ( وعظ ونصیحت کرتے ہیں ) جب انہیں تنہائی میسر آتی ہے تو دوسرے کاموں ( یعنی گناہوں ) میں مشغول ہو جاتے ہیں۔