حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 311
حقائق الفرقان ۳۱۱ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ سورج اور چاند کے نظام اور قانون پر نظر کر کے بہت سے حساب سمجھ سکتے ہو۔جنتریاں بنا سکتے ہو جیسے دو اور دو چار ایک یقینی بات ہے۔اسی طرح پر یہ نظام بھی حق ہے۔اب اگر کوئی شخص میرزا صاحب کے دعوے کے متعلق پہلے دعوے کے وقت نقل صحیح سے کام لیتا تو یہ عقیدہ کیسی آسانی سے حل ہو جاتا تھا۔تیرہ سو برس پیشتر کہا گیا تھا کہ اس مہدی کے وقت رمضان میں کسوف اور خسوف ہوگا اور اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔بت پرست قوم بھی سال سے پہلے جنتری لکھ دیتی ہے۔مسلمانوں کو غیرت کرنی چاہیے تھی اور معلوم کرنا چاہیے تھا کہ کس سال میں اجتماع ممکن ہے؟ ہندو جاہل جب پتری بنا کر کسوف خسوف کے پتے دیتا ہے تو ایک مسلمان کو جس کی کتاب میں لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السّنِينَ وَالْحِسَابَ لکھا ہے۔سوچنا چاہیے تھا کہ وہ وقت کب ہو گا۔اور جب اسے وقت کا پتہ ملتا تو وہ تلاش کرتا کہ مدعی ہے یا نہیں؟ اگر وہ مدعی کو پالیتا تو سوچ لیتا کہ آسمان کی بات میرے یا کسی کے تعلق میں نہیں ہے۔نقل میں موجود ہے کہ اس کے وقت کسوف خسوف ہوگا اور عقل بتاتی ہے کہ یہ اجتماع کسوف خسوف فلاں وقت ہوگا۔اور وہ وقت آگیا ہے اور مدعی موجود ہے۔جب ان امور پر غور کرتا تو بات بالکل صاف تھی اور وہ مان سکتا تھا اور بڑی سہل راہ سے سمجھ سکتا تھا۔اگر اتنی عقل اور سمجھ نہ تھی تو دعوے کے وقت ہی حدیث کو دیکھ لیتا او سن لیتا اور سوچتا کہ یہ حدیث کیسی ہے اور پھر کسی ہندو سے دریافت کرتا کہ یہ موقع کب ہو گا اور وہ اسے بتاتا کہ فلاں سنہ میں ہوگا اور پھر جب وقوع میں آتا تو تسلیم کر کے اپنے تزکیہ کے لئے چلا آتا۔غرض یہ کیسی صاف اور روشن بات تھی لیکن اگر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا تھا۔اور اس کی نگاہ اتنی اونچی نہ تھی تو زمین میں ہی دیکھتا کہ اس کے لئے کیا نشان ہیں؟ اور اس امر پر غور کرتا کہ قرآن تو اس لئے آیا ہے لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِي مَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ - اب اس دعوی کے موافق اس وقت کوئی اختلاف ہے یا نہیں؟ اور پھر قرآن شریف اس اختلاف کے مٹانے کے لئے بس ہے یا نہیں؟ پہلی بات پر نظر کر کے صاف معلوم ہوتا کہ اختلاف کثرت سے پھیلا ہوا ہے۔سب سے پہلا اختلاف تو ہمیں اپنے ہی اندر نظر آتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض صداقتیں ہمارے اندر ہیں۔جن کو ہم ایمانیات یا عقائد کہتے ہیں اور پھر کچھ اعمال ہیں جو یا نیک ہوتے ہیں یا