حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 254
حقائق الفرقان ۲۵۴ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يُخي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - ترجمہ۔اسی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ جلاتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔تفسیر۔وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جو زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ہر گھڑی میں پیدا بھی ہو رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔کوئی ایسا نہ پیدا ہوا۔جو موت کی دوا کرے۔یاکسی انسان کو پیدا ہی کر سکے۔موت سے بچنے کے لئے بادشاہوں نے فوجیں رکھیں۔ہتھیار اور قلعے بنائے۔دوائیں اور منتر اور ختم اور انتظام بنائے یہ سب کچھ ہوا۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ کوئی اس سے بچا ہو۔( بدر - کلام امیر جلد ۱۳ نمبر ۱۱،۱۰ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۱۳ء صفحه ۲۷) -۴- هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ - ۴۔ترجمہ۔وہی سب سے پہلے ہے (اس سے پہلے کوئی نہیں ) اور وہی سب پیچھے ہے (اس سے پیچھے کوئی نہیں ) وہی ظاہر ہے (اس کے اوپر کوئی نہیں) وہی باطن ہے (اُس سے چھپی ہوئی کوئی چیز نہیں ) اور وہی ہر شے کا بڑا جاننے والا ہے۔تفسیر - هُوَ الْاوَلُ وَالْآخِرُ کے معنے یہ ہیں کہ جیسا کہ ایک مخلوق اپنی ابتدا میں اُس کا ( یعنی اللہ کا محتاج ہے ویسا ہی بقا و انتہا میں بھی اس کا محتاج ہے۔یہ معنے غلط ہیں کہ وہ ( یعنی اللہ ) مخلوق کے پہلے تھا اور جب کل مخلوق فنا ہو جائے گی۔تب وہی ہو گا اسی سے تو جنت کی نعماء کی حقیقت فانی ہی رہ جاتی ہے۔( بدر جلد نمبر ۱ مورخه ۲ / نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۳) هُوَ الْأَوَّلُ وَالآخِرُ۔یہ معنے نہیں کہ پہلے کچھ نہ تھا یا قدیم واز لی۔بلکہ صحیح معنے یہ ہیں کہ جس وقت وہ اول ہے آخر بھی وہی ہے۔ایجاد و بقاء اسی کا۔هُوَ الظَّاهِرُ - لَيْسَ فَوْقَهُ شَيْءٌ - هُوَ الْبَاطِنُ - لَيْسَ دُوْنِهِ شَيْءٌ - هُوَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَهُ شَيْءٌ - هُوَ الْأَخِرُ - لَيْسَ بَعْدَهُ شَيْءٍ - تشخید جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۴٬۴۸۴) اللہ تعالیٰ کی یہ چار صفتیں ہر وقت رہتی ہیں۔اللہ اول ہے اور جس وقت وہ اول ہے اسی وقت