حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 230
حقائق الفرقان سُوْرَةُ النَّجْمِ جاتے۔کیونکہ ان کے چھوٹے خیمے جلسہ کے قابل نہ ہوتے تھے۔اور عام سایہ دار درختوں میں سے بیری کا درخت اس ملک میں بڑا درخت سمجھا جاتا ہے۔اس رسم کے مطابق باری تعالیٰ حجاز کے باشندوں کو جو حضرت صاحب الوحی کے مخاطب ہیں۔اور آپ کی دعوت کا ابتداءً روئے سخن بھی ان ہی کی جانب ہے۔یوں فرماتا ہے کہ جہاں اس بادی ، محسن خلق ، رحمت عالمیاں نے مشورہ لیا۔وہ بیری م شمسی تمام دنیا کی بیریوں سے بڑی بیری تھی۔اور وہ تمہاری دنیا کی سی بیری نہ تھی۔وہ تمہارے نظام سے کہیں اونچی سات آسمانوں سے پرے کی بیری ہے۔وہ بیری تو کچھ ایسی بیری ہے۔جس کی جڑھ سے تمام دینی اور دنیوی منافع کی ندیاں نکلتی ہیں۔باغ عدن کی ندیاں بھی اسی کی جڑھ سے نکلتی ہیں۔جن کو تم جیحون اور سیحون اور نیل و فرات کہتے ہو۔اسی کی جڑھ سے نکلتے ہیں۔جنة الخلد کی ندیاں بھی وہاں ہی سے رواں ہیں۔خود جنت الماؤی بھی اسی کے پاس ہے۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں بیان فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ رَاهُ نَزْلَةً أُخْرى _ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى - عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى - إِذْ يَغْشَى السّدُرَةَ مَا يَغْشى - (النجم : ۱۴ تا ۱۷) مَا يَغْشی کا ما بھی موصولہ اور معرفہ ہے۔۔۔یادر ہے یہ کلمہ ما کا عربی میں تفخیم او تنظیم کے معنی دیتا ہے۔وہاں سدرة المنتهی میں جناب رسالت مآب فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دیکھا اپنے رب تعالیٰ کے بڑے بڑے نقش قدرت دیکھے۔کمالات انسانیہ کے حاصل کرنے کے نشانات کا نظارہ کیا جیسے فرماتا ہے۔مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آیتِ رَبِّهِ الكُبرى ـ (النجم : ۱۹۱۸) مشرکو! اس مہربان ہادی کے منکر و! بت پرستو ! تم نے کیا دیکھا ؟ جس کے دیکھنے کے بعد بت پرستی جیسے گڑھے میں ڈوب مرے۔بت پرستی کے لوازم و ہم پرستی اور جہالت میں مبتلا ہو گئے۔نہ کوئی تمہارے ملک میں تمدن کا قاعدہ نہ معاشرت کا اصل نہ سیاست کا ڈھنگ اور نہ روحانی تعلیم کا ذریعہ نہ حقیقی عزت اور فخر کا تم میں وسیلہ۔( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۷۰-۱۷۱)