حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 166
حقائق الفرقان ۱۶۶ سُوْرَةُ الْجَاثِيَةِ تسخیر ہو سکتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ دعا کرے۔دعا کی عادت ڈالے۔اس سے کامیابیوں کی تمام راہیں کھل جائیں گی۔میری یہ بات سن کر وہ ہنس دیا اور کہا۔یہ تو ہم پہلے ہی سے جانتے ہیں۔کوئی عمل تسخیر بتلاؤ۔ایک اور مولوی تھا۔اس نے مجھ سے مباحثہ چاہا۔میں نے اُسے سمجھایا۔تم لوگوں کی تعلیم ابتدا ہی سے ایسی ہوتی ہے کہ ایک عبارت پڑھی اور پھر اس پر اعتراض۔پھر اس اعتراض پر اعتراض۔اسی طرح ایک لمبا سلسلہ چلا جاتا ہے۔اس سے کچھ اس قسم کی عادت ہو جاتی ہے کہ کسی کے سمجھائے سے کچھ نہیں سمجھتے۔میں تمہیں ایک راہ بتا تا ہوں۔بڑے اضطراب سے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔اس نے بھی یہی کہا کہ یہ تو جانتے ہیں۔غرض دعا سے لوگ غافل ہیں حالانکہ دعا ہی تمام کامیابیوں کی جڑھ ہے۔دیکھو قرآن شریف کی ابتدا بھی دعا ہی سے ہوتی ہے۔انسان بہت دعائیں کرنے سے منعم علیہ بن جاتا ہے۔دکھی ہے تو شفاء ہو جاتی ہے غریب ہے تو دولتمند۔مقدمات میں گرفتار ہے تو فتحیاب۔بے اولاد ہے تو اولا دوالا ہو جاتا ہے۔نماز روزہ سے غافل ہے تو اسے ایسا دل دیا جاتا ہے کہ خدا کی محبت میں مستغرق رہے۔اگر کسل ہے تو اسے وہ ہمت دی جاتی ہے جس سے بلند پروازی کر سکے۔کاہلی ، سستی ہے تو اس سے یہ بھی دور ہو جاتی ہے۔غرض ہر مرض کی دوا ہر مشکل کی مشکل کشا یہی دعا ہے۔( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۱۰) ٢٠ - إِنَّهُمْ لَنْ يُخْنُوا عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا ۖ وَ إِنَّ الظَّلِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءَ بَعْضٍ ۚ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ ترجمہ۔وہ تو تجھے کچھ بھی مدد نہ دے سکیں گے اللہ کے مقابلہ میں۔کچھ شک نہیں کہ بے جا کام کرنے والے لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور اللہ تو متقیوں ہی کا دوست ہے۔تفسیر۔تقویٰ کے باعث اللہ تعالیٰ متقی کے لئے منتفی ہو جاتا ہے۔اور اس سے ولایت ملتی الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۵) ہے۔اِنَّ اللهَ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ -