حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 161 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 161

حقائق الفرقان ۱۶۱ سُورَة الدُّخَانِ سُوْرَةُ الدُّخَانِ مَكِيَةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ہم سورہ دخان کو پڑھنا شروع کرتے ہیں صاحب جلال و جمال اللہ کے اسم شریف سے جس کا مظہر رحمن ورحیم ہے۔١١ فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - ترجمہ۔تو تو اس وقت کا منتظر رہ جس دن آسمان لے آوے ایک ظاہر دھواں۔تفسیر - تأتي السَّمَاء بدخان مبين - قحط کے دن آئیں گے جن کی وجہ سے آسمان دھواں دھار نظر آئے گا۔تفخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۱) جب ابن صیاد کی بعض مشابہ بہ دجال شعبدہ بازیوں کا حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچا تو آپ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے پوچھا تشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔اس نے جواب دیا۔آپ اُمیوں کے رسول ہیں۔پھر اس نے اپنی نسبت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کے سب رسولوں کو مانتا ہوں۔اس سے اس احتیاط کا پتہ چلتا ہے جو انبیاء کرتے ہیں۔یہ اور ان کے پیرولوگ کبھی تکذیب کی راہ اختیار نہیں کرتے۔پھر آپ نے پوچھا کہ میرے دل میں اس وقت کیا ہے۔تو اُس نے رُخ کہا۔روایات میں آیا ہے۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِین کا خیال فرما یا تھا۔ابن عربی نے اپنا ایک ذوقی لطیفہ اس واقعہ کے متعلق لکھا ہے۔وہ کہتے ہیں۔ابنِ صیاد کو ڈخ بھی معلوم نہ ہوتا۔مگر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر بغیر صریح امر بی تشریف لے گئے تھے۔میں نے اس حکایت سے یہ فائدہ اٹھایا ہے کہ مباحثہ کبھی اپنی خواہش سے نہیں کرنا چاہیے اور کبھی پہل نہ کرو۔