حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 160

حقائق الفرقان 17۔سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ ط خُذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهَرُهُمْ وَتُزَلَيْهِمْ بِهَا وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنُ لے لَهُمْ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ - (التوبه : ١٠٣) دیکھو یہاں صرف منافقوں کے گروہ کی شفاعت کا تذکرہ ہے۔اس لئے یہ شفاعت صغری شفاعت ہوئی اور کبری شفاعت کا ذکر ان آیات شریفہ میں ہے جن کے ذریعے آپ بڑے جوش و خروش سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گنہگار ہونے کا استدلال کرتے ہیں۔وہ آیات اس قسم کی ہیں۔وَاسْتَغْفِرْ لِنَثْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ - (محمد:۲۰) فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۲۹۷،۲۹۶) شفاعت ایک قسم کی دعا ہے اور دعا کا مؤثر ہونا کل مذاہب تاریخیہ میں مسلم اور دعا کیلئے یادعا کی قبولیت کیلئے گناہوں سے پاک ہونا ہرگز ہرگز شرط نہیں۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۹۷) ٨٩ وَقِيلِهِ يُرَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ لَا يُؤْمِنُونَ ترجمہ۔اور رسول اللہ کے یا رب یا رب کہنے کی قسم ہے کہ یہ ایسے لکھے لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔تفسیر۔وقیلہ۔یہ عطف ساعۃ پر ہے۔۲۔و بمعنے رب یعنی بار بار اس کا کہنا۔و تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۱) ٩٠ - فَاصْفَحُ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَمُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ - ترجمہ۔تو خیر تو ان سے منہ پھیر لے اور کہہ دے سلام۔آگے چل کر یہ معلوم کر لیں گے۔تفسیر فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلم۔تو ان سے درگزر کر اور سلام کہہ دے۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائزڈ ایڈ یشن صفحہ ۲۳۲) پھر عفو کر ان سے اور کہہ سلام۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۵۳ حاشیه ) لے لے ان کے مال میں سے زکوۃ کہ ان کو پاک کرنے اس سے اور تربیت اور دعا دے ان کو البتہ تیری دعا ان کے واسطے آسودگی ہے۔اور اللہ سب سنتا ہے جانتا ہے اور معافی مانگ اپنے گناہ کے واسطے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے۔