حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 141
حقائق الفرقان ۱۴۱ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ في الْخِصَامِ۔لڑائی میں کھل کر نہیں نکل سکتی۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۰) ۲۱ - وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَنُ مَا عَبَدُ نَهُمْ مَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ ، ٢١ 199991 هُمُ الَّا يَخْرُصُونَ - ترجمہ۔اور یہ کہتے ہیں کہ اگر رحمن چاہتا تو ہم ان کی پوجا نہ کرتے۔اس بات کا تو ان کو علم نہیں ہے ہاں یہ توصرف انکل ہی دوڑ رہے ہیں۔تفسیر۔اور کہتے ہیں اگر چاہتا رحمن ہم نہ پوجتے ان کو کچھ خبر نہیں ان کو اس کی یہ سب انکلیں فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۲۵ حاشیه ) دوڑاتے ہیں۔m -۳۲- وَقَالُوا لَو لَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ۔اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا بڑے آدمی پر دو بڑی بستیوں کے رہنے والوں سے۔تفسیر۔نبوت اور ماموریت ایک باریک اور لطیف راز ہوتا ہے۔جس کو دنیا میں منہمک انسان جھٹ پٹ نہیں سمجھ سکتا۔اگر یہ بات ہوتی کہ ہر شخص معانی کے دعوی کرنے ہی پر اس کی حقیقت کو سمجھ لیتا تو پھر مخالفوں کا وجود ہی نہ ہوتا۔چونکہ انسان اپنی عقل و دانش پر بھروسہ کرنا چاہتا ہے۔اور مجرد اسی کے فیصلہ پر راضی ہونا پسند کرتا ہے۔اس لئے اکثر اوقات وہ غلطیاں کرتا اور نقصان اٹھاتا ہے۔یہی اٹکل بازی تھی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں سے یہ کہلوایا۔کو لَا نُزِّلَ هُذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ - میاں یہ قرآن شریف تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے نمبردار پر نازل ہونا چاہیے تھا۔اپنی نگاہ و نظر میں وہ یہی سمجھتے تھے کہ قرآن شریف اگر نازل ہو تو کسی نمبر دار پر نازل ہو۔کیونکہ ان کی نگاہوں کی منتہا تو وہ نمبر داری ہوسکتی تھی۔پس یہی حال ہے کہ انسان اپنی انکلوں سے کام لینا چاہتا ہے حالانکہ ایسا اس کو نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ جس معاملہ میں اس کو کوئی علم اور معرفت نہیں ہے۔اس پر اسکو رائے زنی کرنے سے شرم کرنی چاہیے۔اس لئے پاک کتاب کا حکم ہے کہ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ۔