حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 140

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ ۱۴، ۱۵ - لِتَسْتَوْا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبَّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ و تَقُولُوا سُبُحْنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَ إِنَّا إِلَى رَبَّنَا لمنقلبون - ترجمہ۔تا کہ چڑھ بیٹھو اور ٹھیک سوار ہو اس کی پیٹھ پر پھر یاد کرو تمہارے رب کا احسان جب ان پر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ذات ہے وہ جس نے ہمارے بس میں کر دیا اس سواری کو اور اس کو ہم قابو میں نہ لا سکتے تھے۔اور ہمیں تو اپنے رب ہی کی طرف ضرور لوٹ جانا ہے۔تفسیر۔فرمایا۔ہم بچپن سے سنتے تھے کہ گھوڑے کی ایک رکاب میں پاؤں رکھ کر دوسری میں رکھنے تک مولیٰ مرتضی قرآن مجید پڑھ لیا کرتے۔اب اس کا مطلب سمجھ میں آیا کہ جزو قرآن بھی قرآن ہے۔پس اس سے یہ مراد ہے کہ وہ آیت سُبُحْنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَ مَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَ إِنَّا إِلَى رَبَّنَا لمُنقَلِبُونَ (الزخرف: ۱۵،۱۴) پڑھ لیتے تھے۔الفضل جلد نمبر ۲۶ مورخه ۱۰/ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱) ١٦ - وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُّبِينٌ - ترجمہ۔اور لوگوں نے ٹھہرایا اللہ کے بندوں میں سے ایک جزء بے شک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔تفسیر۔یہ قرآن کریم میں نہیں لکھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات کے جزو ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نور سے ایک ٹکڑ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن گیا۔ایسا خیال شرک ہے۔قرآن کریم میں اس کو رد کیا گیا ہے۔جہاں فرمایا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عباد اور بندوں کو اللہ تعالیٰ کا جزو بنایا ہے یہ بڑا کفر ہے اور کھلا کفر ہے جَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورُ مبین۔ہاں کل نورانی بندے اس کے نور سے ہوتے ہیں۔کیا معنے؟ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔مگر یہ لفظ قرآن کریم میں نہیں۔( بدر جلد ۹ نمبر ۴۵ مورخه ۹،۲ رستمبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۳) 99991 اَوَ مَنْ يُنَشَّوا فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ - ترجمہ۔کیا بیٹی ذات جو پرورش پائے زیوروں میں اور وہ جھگڑے کے وقت میں صاف بات بھی نہیں کر سکتی ( تو کیا اللہ کے لئے ایسی چیز مقرر کرتے ہو )۔