حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 118
حقائق الفرقان ۱۱۸ سُورَة حم السجدة پیدائش کی پہلی آیتوں میں لکھا ہے۔پھر جب وہ الماء زیادہ کثیف ہو گیا تو اس پر وہ حالت آ گئی۔جس کے باعث اس پر زمین کا لفظ بولا گیا۔پس ایک دن اس پر وہ تھا کہ یہ زمین سیال ہوئی۔اور دوسرا دن وہ آیا کہ کثیف ہو گئی۔طبقات الارض سے یہ امر بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ جس قدر زمین کے نیچے مرکز کی طرف کھودا جاوے۔زمین کی گرمی بہ نسبت بالائی سطح کے نیچے کو بڑھتی جاتی ہے حتی کہ اب بھی چھتیس میل کی دوری پر ایسا گرم مادہ موجود ہے جس کی گرمی تصور سے باہر ہے۔اس زمانہ سے بہت عرصہ پہلے جب اسکا بالائی حصہ کثیف ہونا شروع ہوا تھا۔ایک دن اس ہماری آرام گاہ پر وہ گزرا تھا کہ اس زمین کی بالائی نہایت پتلی سطح کے نیچے اس مادہ کا آتشیں سمندر موجیں مارتا تھا اور اسکی بالائی بار یک سطح کوتوڑ توڑ کے بڑے راکس اور بڑے بڑے حجرے قطعات باہر نکلتے تھے اور پہاڑوں کا سلسلہ پیدا ہوتا جاتا تھا اور ظاہر ہے کہ اس وقت بڑے بڑے زلزلے اور بھونچال ہوتے تھے۔جب بڑے بڑے پہاڑ پیدا ہو گئے اور زمین کا بالائی حصہ زیادہ موٹا ہو گیا۔پھر تیسرا اور چوتھا دن یا تیسرا اور چوتھا وقت اس کرہ ارضی پر وہ آیا کہ نباتات، جمادات ، پھل، پھول وغیرہ اشیاء انسانی آرام اور آسائش کے سامان مہیا ہوئے۔ایک دن ان اشیاء کی پیدائش کا اور دوسرا دن ان اشیاء کی ترتیب کا۔غرض دو دن پہلے اور دو دن یہ کل چار روز زمین کی درستی کے ہوئے۔اسی طرح زمین کی بالائی فضا اور زمین کی سقف اور زمین کی بناء۔آسمان کو اللہ تعالیٰ نے دو روز میں بنایا اور ان میں امر الہی کی وحی ہوئی اور وہ وقت آ گیا کہ انسان زمین پر آباد ہوں۔کیونکہ جیسے قرآن کریم نے فرمایا ہے۔سواء تسابِلِينَ ( حم سجدہ: ۱۱۱) انسان کی تمام ضرورتیں اور اس کیلئے سب مائیختا مج پورا ہو گیا۔اس تکذیب براہین سے غالباً پہلے کا ذکر ہے۔میرے ایک پیارے عزیز نے مجھ سے اسی آیت رسوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو قرآن میں القادر یعنی قادر مطلق کہا ہے اور وہ تمام زمین اور آسمان کو ایک آن میں پیدا کر سکتا ہے۔کیونکر مان لیا جاوے۔آسمان و زمین کو اس نے چھ دن میں بنایا ہو۔اس وقت ایک جوار کا کھیت ہمارے سامنے لہلہا رہا تھا۔میں نے تھوڑی دیر سکوت کر کے پوچھا۔اس کھیت کا لے چٹانیں ROCKS