حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 97
حقائق الفرقان ۹۷ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ تفسیر۔کفر اور تکبر اور بداعمالی کے کسب سے مہر لگتی ہے۔ان بری باتوں کو چھوڑ دو۔مہر بٹی ہوئی دیکھ لو۔خدائے تعالیٰ نے اپنے قانون میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جن قومی سے کام نہ لیا جاوے وہ قوی بتدریج اور آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ قویٰ جن سے کام نہیں لیا گیا۔اسی طرح سے برکار اور معطل رہتے رہتے بالکل نکھے ہو جاتے ہیں اور ان پر صادق آتا ہے کہ اب ان قومی پر اور ان قومی کے رکھنے والوں پر مہر لگ گئی ہے۔ہر ایک گناہ کا مرتکب دیکھ لے۔جب وہ پہلے پہل کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس وقت اس کے ملکی قوی کیسے مضطرب ہوتے ہیں پھر جیسے وہ ہر روز برائی کرتا جاتا ہے ویسے آہستہ آہستہ وہ اضطراب اور حیا اور تامل جو پہلے دن اس بد کا ر کو لاحق ہوا تھا وہ اڑ جاتا ہے۔تمہیں تعجب اور انکار کیوں ہے؟ انسانی نیچر اور فطرت اور اس کے محاورے کی بولی پر غور کرو۔شریر اور بدذات آدمی کو ایک ناصح فصیح نہیں کہتا کہ ان کی عقل پر پتھر پڑ گئے۔ان کے کان بہرے ہو گئے۔ان کی سمجھ پر تالے لگ گئے۔کیا ان مجازوں سے حقیقت مراد ہوتی ہے۔فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۱۸) اسی طرح بہکاتا ہے اللہ اس کو جو ہو زیادتی والا شک کرتا۔وے جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں بغیر سند کے جو پہنچی ان کو۔بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں اور ایمانداروں کے یہاں۔اسی طرح مہبر کرتا ہے اللہ ہر دل پر غرور والے سرکش کے۔(فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۲۴ حاشیه ) على كل قلب مُتَكَبَرِ جَبَّارٍ۔مہر بے وجہ نہیں لگی یا در ہے۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۹) ۳۷ - وَقَالَ فِرْعَوْنُ يُهَا مَنُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلَّى أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ - ترجمہ۔اور فرعون نے کہا اے ہامان ! بنا میرے لئے ایک اونچا محل تاکہ میں جا پہنچوں ان راستوں یا تد بیروں سے۔تفسیر - يُهَا مَنُ ابْنِ لِي صَدُعا۔اے ہامان ! میرے لئے ایک محل تیار کر۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۵۰ حاشیه )