حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 75
حقائق الفرقان ۷۵ اس پیارے رسول نے جس کی واقعی صفت میں قرآن فرماتا ہے۔인 سُوْرَةُ الْبَقَرَة وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: ۱۵۸) ان تمام رسمی بندشوں، سیپوں اور سینگوں کی تلاش سے اُمت کو سبکدوش کر دیا۔ذری انصاف سے ان کلمات کو سوچو۔اس ترکیب کے سر پر نگاہ کرو کہ کوئی قوم بھی دنیا میں ہے جو اس شد ومد سے پہاڑوں اور مناروں پر چڑھ کر اپنے بچے اصولوں کی ندا کرتی ہے؟ عبادت کی عبادت اور ملا ہٹ کی بلا ہٹ دنیا میں ہزاروں حکماء وریفارمر گزرے ہیں اور قومی گڈریے پیدا ہوئے ہیں مگر تر بتر ہوئی بھیڑوں کے اکٹھا کرنے اور ایک جہت میں لانے کا کس نے ایسا طریق نکالا؟ کس نے کبھی ایسی ترکی پھونکی جس کی دلکش آواز معا روحانی جوش اور ولولہ تمام ظاہر و باطن میں پیدا کر دے؟ اللہ اکبر! کیسی صداقت ہے کہ ایک قوم علی الاعلان صبح و شام پانچ دفعہ اپنے بے عیب عقیدے کا اشتہار دیتی ہے۔تعیین اوقات، پابندی وقت ! آہ کیسے مقبول کلمات ہیں کہ جب کسی قوم کی ترقی کی راہ کھلی۔اسی مشعلِ جان افروز کے نور سے تمام موانعات کی تاریکی دُور ہوئی !! شریعتِ موسوی میں احکام نماز منضبط نہیں ہوئے تھے۔توریت طریق نماز سے بالکل ساکت ہے صرف علمائے دین کو دہ یکی دیتی اور پلوٹھے لڑکے کو ہیکل مقدس میں لا کر نذر دیتی۔وقت خاص دعا پڑھی جاتی اور لڑکے کا باپ تمام احکام شرعی کو بجالا کر یہودہ سے دعا مانگتا تھا کہ اس اسرائیلی لڑکے کو برکت دے جیسے تو نے اس کے آبا و اجداد پر برکت نازل کی تھی۔لیکن جب یہود اور ان کے علماء کا اعتقاد باری تعالیٰ کی نسبت زیادہ تر معقول اور پاکیزہ ہو گیا اور خداوند عالم کے مشکل بشکل انسان ہونے کا فاسد عقیدہ دفع ہونے لگا تب نماز یا دعا کی حقیقت ان کی سمجھ میں آنے لگی کہ نماز انسان کے لئے بارگاہ الہی سے تقرب کا وسیلہ ہے مگر چونکہ شریعت موسوی میں کوئی خاص قاعدہ نماز کا مقرر نہ تھا لہذا روایت اور رواج پر مدار رہا اور بقول ڈالنجر صاحب کے یہود بھی ایک نماز گذار قوم ہو گئے اور لے اور اتارتا ہے ان سے بوجھ ان کے اور پھانسیاں جو ان پر تھیں۔۱۲