حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 74
حقائق الفرقان ۷۴ سُورَةُ الْبَقَرَة أَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَ اَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ b لَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (العنكبوت: ۴۲) ان آیات سے نماز کی علت غائی خوب ظاہر ہوتی ہے کہ نماز منکرات اور فواحش سے محفوظ رہنے کے لئے فرض کی گئی ہے اگر نماز کی اقامت اور مداومت سے نمازی کے اقوال وافعال میں کچھ روحانی ترقی نہیں ہوئی تو شریعت اسلامی ایسی نماز کو ستحق درجات ہر گز نہیں ٹھہراتی۔اب مجاز وظاہر کہاں رہا ؟ نبی عرب علیہ الصلوۃ کے لئے کچھ کم فخر کی بات نہیں اور اس کے خدا کی طرف سے ہونے کی قوی دلیل ہے کہ اس نے خدا کی عبادت کو طبلوں، مزماروں،سارنگیوں اور بربطوں سے پاک کر دیا اللہ کے ذکر کی مسجدوں کو رقص و سرود کی محفلیں نہیں بنایا اور یہاں تک احتیاط کی کہ تصاویر اور مجسمہ بنانے کی اور مسجدوں میں موہم بالشرک نقش و نگار کرنے کی قطعی ممانعت کر دی کہ ایسا نہ ہو یہی مجاز رفته رفته مبدل بحقیقت ہو کر اور یہی مجتمے معبودی تماثیل بن کر تو حید کے پاک چشمے کو مکد رکر ڈالیں۔جب ہم ایک خوش قطع گرجا میں عیسائی جھنڈ کو بزعم عبادت جمع ہوئے دیکھتے ہیں۔سجے سجائے بنے ٹھنے۔نیوانیاں اور گوری گوری یور پانیاں قرینے سے کرسیوں پر ڈٹی ہوئیں۔اس وقت ہمیں عیسائیوں کا یہ فقرہ کہ مسلمانوں میں صرف رسمی اور مجازی عبادت ہے“ بڑا حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے۔یقیناً اہل اسلام کی غیور طبیعت نصاری کی اس حقیقت سے آشنا ہونے کی کبھی کوشش نہ کرے گی۔اس موقع پر طریق اذان پر بھی کچھ تھوڑ اسالکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ہر قوم نے پراگندہ افراد کو جمع کرنے یا منشائے عبادت کو حرکت دلانے کے لئے کوئی نہ کوئی آلہ بنا رکھا ہے۔کسی نے ناقوس نرسنگا کسی نے گھنٹے گھنٹیاں مگر انصاف شرط ہے۔ان میں سے کوئی وضع بھی اذان سے مقابلہ کر سکتی ہے؟ لے تو پڑھ جو اتری تیری طرف کتاب اور کھڑی رکھ نماز بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی سے اور بری بات سے اور اللہ کی یاد ہے سب سے بڑی اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو۔۱۲