حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 620
حقائق الفرقان ۶۲۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہیں۔سود خواروں کے اخلاق ایسے خراب ہوتے ہیں کہ ایک سود خوار کے آگے میں نے ایک فقیر کے لئے سفارش کی تو وہ کہنے لگے کہ پانچ روپے میں دے تو دوں گا مگر میرے پاس رہتے تو سو برس میں شود در شود سے با لاکھ ہو جاتا۔لکھنؤ میں ایک سلطنت تھی وہ بھی محض سود سے تباہ ہوئی۔پہلے ان کے مبلغات پرومیسری نوٹوں کے بدلے میں گئے پھر وہ جنگ کرنے کے قابل نہ رہے اور آخر وہ وقت آیا کہ یہ سلطنت برباد ہوگئی۔میں نے چند مصنفین کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ ربوا کے معنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر بھی نہ کھلے۔تعجب کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہاں تک تو فرما دیا کہ فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَ رسُوله (البقرۃ :۲۸۰) اور یہ نہ کھولا کہ ربوا کیا ہے۔پھر ساہوکار جاہل سے جاہل زمیندارسب جانتے ہیں کہ سود کیا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۰ مورخه ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۵۱) كَمَا يَقُومُ - جنگوں کو نہیں جاتا مگر خبطی کی طرح کیونکہ وہ اپنی اسامیوں کو نہیں مارے گا۔تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۵) فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ - (البقرة : ۲۷۲) یعنی جب کوئی شخص قسم قسم کی بداعمالیوں اور بدذاتیوں اور خدا کی نافرمانیوں میں مصروف ہو اور اس وقت اس کو خدا کا حکم پہنچے اور وہ خدا کی طرف سے وعظ و نصیحت کو سنے اور اس جگہ تو بہ کرے اور سچی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ قصوروں اور گذشتہ بد ذاتیوں کو معاف کر دے گا اور جو کچھ اس نے گذشتہ زمانہ میں کیا وہ سب اس کو معاف ہوگا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۱۳۰ نومبر و ۱۰ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۱۷) ۲۷۷ - يَبْحَقُ اللَّهُ الرَّبُوا وَيُرُ بِي الصَّدَقْتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَارٍ أَثِيمٍ - ترجمہ۔اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور خیرات کو پالتا ہے اور اللہ نا خوش ہے دوست نہیں رکھتا ہے ہر کا فرگنہگا رکو۔لے تو خبر دار ہو جاؤ اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کو ( طیار ہو جاؤ )۔(ناشر)