حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 619
حقائق الفرقان ۶۱۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة میں جاہل آدمی ان کو سمجھے مال داران کو نہ مانگنے اور چھوڑ دینے کی وجہ سے۔ان کے نشان سے (یا) ان کی پیشانی سے پہچانتا ہے تو ان کو وہ لوگوں سے مانگتے نہیں سخت پیچھے پڑ کر تم کچھ بھی خرچ کرو کام کی چیز تو بے شک اللہ اسے بخوبی جانتا ہے۔تفسیر قرآن شریف یہ بتا کر کہ کہاں سے دے اور کس مال کو خرچ کرے اب یہ بتا تا ہے کہ کس کس کو دے۔لِلْفُقَرَاءِ الَّذِینَ۔سو ان میں سے ایک تو وہ فقراء ہیں جو اعلاء کلمتہ اللہ میں ہر وقت مشغول رہتے ہیں۔جہادِ سنانی ہو یا لسانی اور اس وجہ سے وہ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ زمین میں کمانے کے لئے جد و جہد نہیں کر سکتے۔9919 بسیھم۔ان کی علامتوں سے شریعت نے قرائن کا بھی ایک علم رکھا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۰ مورخه ۲۰ رمئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۱،۵۰) -٢٧٦ اَلَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرَّبُوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرَّبُوا وَ أَحَلَّ اللَّهُ البَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبُوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُةٌ إِلَى اللهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - ترجمہ۔جولوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہ ہو سکیں گے مگر اس طرح جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو خبطی بنادیا شیطان نے چھو کر یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا تھا کہ سوداگری بھی تو سود ہی کے جیسی ہے حالانکہ سوداگری کو اللہ نے حلال کیا اور سود کو حرام کیا تو جس کو اللہ کی نصیحت پہنچ چکی اور وہ باز آ گیا ( سود کھانے سے ) تو جو آگے لے چکا تو وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے پھر سو دلیا تو یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔تفسیر۔الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبوا۔کمانے کی صورتوں میں سے ایک صورت کمانے کی جہاد کی بہت بھاری دشمن ہے اور وہ سود ہے۔ربوا کے بہت ہی خطرناک نتائج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے