حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 609
حقائق الفرقان ۶۰۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کو کچھ دلانے کے لئے۔اللہ کے حضور دلانے کی بہت سی راہیں ہیں ان میں سے یہ بھی ایک راہ ہے جس کا ذکر پہلے شروع سُورۃ میں مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ : ۴) سے کیا پھر أَنَّى الْمَالَ عَلَى حيه (البقرة: ۱۷۸) میں۔پھر اسی پارہ میں آنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُمْ (البقرة:۲۵۵) سے۔مگر اب کھول کر مسئلہ انفاق فی سبیل اللہ بیان کیا جاتا ہے۔انجیل میں ایک فقرہ ہے کہ جو کوئی مانگے تو اسے دے۔مگر دیکھو قرآن مجید نے اس مضمون کو پانچ رکوع میں ختم کیا ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ کسی کو کیوں دے؟ سواس کا بیان فرماتا ہے کہ اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے۔خرچ کرنے والے کی ایک مثال تو یہ ہے کہ جیسے کوئی بیج زمین میں ڈالتا ہے مثل باجرے کے پھر اس میں کئی بالیاں لگتی ہیں۔وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ بعض مقام پر ایک کے بدلہ دس اور بعض میں ایک کے بدلہ سات سو کا مذکور ہے۔یہ ضرورت، اندازہ، وقت و موقع کے لحاظ سے فرق ہے۔مثلاً ایک شخص ہے دریا کے کنارے پر۔سردی کا موسم ہے۔بارش ہو رہی ہے۔ایسی حالت میں کسی کو گلاس بھر کر دے دے تو کونسی بڑی بات ہے لیکن اگر ایک شخص کسی کو جبکہ وہ جنگل میں دو پہر کے وقت تڑپ رہا ہے پیاس کی وجہ سے جاں بلب ہو۔محرقہ میں گرفتار۔پانی دیدے تو وہ عظیم الشان نیکی ہے۔پس اسی قسم کے فرق کے لحاظ سے اجروں میں فرق ہے۔رابعہ کا ایک قصہ لکھا ہے کہ ان کے گھر میں ہیں آدمی مہمان آگئے گھر میں صرف دو روٹیاں تھیں آپ نے اپنی جاریہ سے کہا۔جاؤ کہ یہ فقیر کو دے دو۔اس نے دل میں کہا کہ زاہد عابد بیوقوف بھی پرلے درجے کے ہوتے ہیں دیکھو گھر میں ہمیں مہمان ہیں اگر انہیں ایک ایک ٹکڑہ دے تو بھی بھوکے رہنے سے بہتر ہے اور ان مہمانوں کو یہ بات بری معلوم ہوئی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ رابعہ کا کیا مطلب ہے۔تھوڑی دیر ہوئی تو ایک ملازمہ کسی امیر عورت کی ۱۸ روٹیاں لائی۔رابعہ نے انہیں واپس دے کر فرمایا کہ یہ ہمارا حصہ ہرگز نہیں۔واپس لے جاؤ۔اس نے کہا نہیں، میں بھولی نہیں۔مگر رابعہ نے یہ اصرار کیا کہ نہیں یہ ہمارا حصہ نہیں۔ناچار وہ واپس ہوئی۔ابھی دہلیز میں قدم رکھا ہی تھا کہ مالکہ نے چلا کر کہا کہ تو اتنی دیر کہاں رہی۔یہ تو دو قدم پر اے ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ دیا کرتے ہیں۔سے پیارا مال دیا اللہ کی محبت میں۔سے ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرلو۔(ناشر)