حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 608 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 608

حقائق الفرقان ۶۰۸ سُورَةُ الْبَقَرَة حقیقی مالک اور رب پرورش کنندہ ہوں میرے بلائے پر یہ ذرات حیوان کے جمع نہیں ہوسکیں گے۔اس نظارہ اور فعل پر بتاؤ کیا اعتراض ہے؟ پس ترجمه آیت کریمہ کا یہ ہوا۔فرمایا۔پس لے پرندوں سے چار۔پھر ان کو مائل کر لے اپنی طرف یعنی اپنے ساتھ ہلا لے۔پھر رکھ پہاڑی پر ان میں سے ایک ایک کو۔پس بلا ان کو۔تیرے پاس آئیں گے دوڑتے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۲۳۶ ،۲۳۷) ۲۶۲ - مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ اَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ۖ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - ترجمہ۔خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کی مثال اس دانہ کی ہے جس نے سات بالیاں نکالیں ہر بالی میں سودانے اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھ چڑھ کر دیتا ہے۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۸۰) در تفسیر - مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ - ان جنگوں میں ضرورت پڑتی تھی خرچ کی۔پس اس کی ترغیب دی۔یہ بات یاد رکھو کہ انبیاء مَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۚ إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى رَبِّ العلمين (الشعراء: (۱۱۰) کا اعلان کرنے والے ہیں جو داعی الی الحق ہوں۔ان کو کسی آجر کی ضرورت نہیں۔میں خودا پنی طرف دیکھتا ہوں کہ تمہیں درس دیتا ہوں مگر کبھی میرے واہمہ میں بھی نہیں گزرا کہ کوئی اس کے عوض میں مجھے کچھ دے یا سلام تک بھی کرے۔عبدالقادر جیلانی نے كَخَرُ دَلَةٍ عَلى حُکمِ اتصال ے میں اپنے پاک دل کا بہت ہی سچا نقشہ کھینچا گو احمق لوگوں نے اس کے شرک آمیز معنے لئے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ انہوں نے یہ بتلایا ہے کہ میرے نزدیک دنیا کی قدر ایک رائی کے دانے کے برابر نہیں مگر دنیا رائی میں نہیں آسکتی۔پس خوب یا درکھو کہ انبیاء جو چندے مانگتے ہیں تو اپنے لئے نہیں بلکہ انہی چندہ دینے والوں لے اور میں تو تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتا۔میری اجرت تو رب العالمین ہی پر ہے۔۲ اتصال باللہ کے سبب میری نگاہ میں اللہ تعالیٰ کی کل زمین رائی کے دانہ کے برابر ہے۔(ناشر)