حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 523
حقائق الفرقان ۵۲۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة جب گناہ کا اثر کسی دوسرے پر عملی رنگ میں پڑے مگر شریعت گناہ کے مبدء کو پکڑتی ہے مثلاً بد نظری ہے۔اب پولیس اسے نہیں پکڑتی لیکن شریعت نے یہ برکت کا کام دنیا میں کیا ہے کہ جو شخص شریعت پر عمل پیرا ہو وہ پولیس کے ہاتھ میں آتا ہی نہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مؤرخه ۱/۲۲ پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۶، ۳۷) كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً۔اس کی تفسیر سورۃ یونس (آیت ۲۰) وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً لے وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا میں ہے۔گان حرف ہے۔یہ مطلب نہیں کہ سب کا فر تھے یا سب مومن بلکہ یہ کہ انسان بحیثیت انسان ایک گروہ ہے جیسے کتے الگ گھوڑے الگ۔تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۲) كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً (البقرة: ۲۱۴) اس کا ترجمہ میری سمجھ میں یہی ہے کہ سب آدمی ایک جماعت ہیں جس طرح تمام دنیا کی اشیاء کی جماعت بندی ہے انسان بھی ایک جماعت ہے۔اس میں مومن، کافر مسلمان، شریر سب ہی ہیں صلح جو بھی ہیں شرارت پیشہ بھی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا ہے قریش میں امام ہیں شریروں کے شریر اور خیار کے خیار۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا سمجھانے والا ، ابوجہل جیسا انکار کرنے والا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے تیرہ برس تک کیسے کیسے دلائل اور سلطان سنے مگر اس کے دل پر ذرا بھی اثر نہ ہوا۔ایک دفعہ ایک نوجوان نے مجھ سے کہا کہ میں مصر جانا چاہتا ہوں تا کہ وہاں جا کر عربی سیکھوں اور پھر دین سیکھوں کیونکہ ہمارا دین عربی میں ہے اور بغیر عربی کے دین نہیں آسکتا۔میں نے کہا تم ابو جہل سے بڑھ کر زبان دان نہیں بن سکتے۔مصر جاؤ۔روم میں جاؤ یا شام میں ابو جہل کو جیسی عربی زبان آتی تھی ویسی تم کو نہ آئے گی لیکن ابو جہل مسلمان نہ ہوا۔یہ دنیا کے عجائبات ہیں سب لوگ ایک جماعت ہیں پھر باوجود یکتائی کے کس قدر تفاوت اور فرق ہے کوئی اس کو بیان نہیں کرسکتا۔البدر جلد ۱۲ نمبر ۳۰،۲۹٬۲۸ مورخه ۳۰/جنوری ۱۹۱۳ء صفحه ۴،۳) ا سب لوگ ایک ہی رنگ میں رنگین تھے پھر الگ الگ ہوئے اختلاف کئے۔(ناشر)