حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 508
حقائق الفرقان ۵۰۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة فسُوقَ۔جو کچھ ایمان کے خلاف ہے وہ فسق ہوا۔جدال۔بے جالڑائی کرنا۔ایک دو کہانیاں مجھے یاد آ گئی ہیں۔ایک دفعہ راہ میں ایک شخص کی مجھ سے چابی گم ہو گئی۔وہ مجھے کہے کہ میں بعینہ وہی چابی لوں گا۔میں نے کہا کہ بہت اچھا۔خدا تعالیٰ قادر ہے۔اصل بات یہ تھی کہ کچھ ڈا کو ہمارے اسباب و سامان پر پڑے تھے اس روز وہ چابیاں لے گئے۔چونکہ میرا صندوق سب سے بھاری تھا اس لئے اس شخص کا مطالبہ تھا کہ تمہاری وجہ سے ہماری چابی گئی ہے وہ مہیا کر دو۔اب ان ڈاکوؤں کی چند سپاہیوں سے مٹھ بھیڑ ہوئی اور وہاں وہ چابیاں چھوڑ گئے اور اتفاق سے وہ سپاہی ہمارے قافلہ میں آگئے اور اس طرح وہ چابی ہمیں مل گئی۔دوسرا قصہ یاد آیا کہ ایک دفعہ دو بھائی حج کرنے چلے۔میں نے ان سے کہا کہ تم جو خرچ کرتے ہو لکھتے جاؤ بعد میں حساب کر لینا مگر انہوں نے اسے برادرانہ تعلقات کے خلاف سمجھا لیکن آخر جا کر ان کی لڑائی ہوئی۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴ ۲۵ مورخه ۱۵٫۸ / اپریل ۱۹۰۹ صفحه ۳۴) تیسری بات مجھے یاد آئی کہ بڑوؤں کی عادت ہے کہ جب ایک کھانا کھانے لگے تو جتنے بڑو ہوں سب اسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اس طرح وہ بھوکے رہتے ہیں۔میں اپنے اونٹ والے کو آدھی رات کے وقت کھجوریں دیا کرتا تھا۔ایک دفعہ میں نے اسے کہا جاؤ پانی لاؤ۔وہ گیا اور تھوڑی دیر بعد خالی واپس آیا۔میں نے کہا کیا ہوا۔کہا تری ان شاء الله مصبحين صبح معلوم ہوا کہ ایک رئیس کے مُصْبِحِيْنَ یہاں قافلے میں پانی کی بوند نہیں تھی۔بات یہ ہوئی کہ اس نے پانی مانگا۔انہوں نے انکار کیا۔اسے غصہ جو آیا تو ان کے مشکیزوں میں سوراخ کر دیا۔یہ باتیں میں نے اس لئے سنائیں تا آپ کو معلوم ہو کہ جھگڑے کیوں پیدا ہوتے ہیں اور یہ کہ اتنے مختلف المزاج لوگوں میں ایسے معاملات کا پیش آناممکن ہے۔پس خدا فرماتا ہے کہ بیجا لڑائی مت کرو۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مؤرخه ۱/۲۲ پریل ۱۹۰۹ صفحه ۳۵) لے ان شاء اللہ آپ صبح ہونے پر ( جو ہوا) دیکھیں گے۔(ناشر)