حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 507
حقائق الفرقان ۵۰۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ١٩٨ - اَلْحَجُ اَشْهُرُ مَعْلُومَتَ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَأُولِي الْأَلْبَابِ - ترجمہ۔حج کے چند مہینے مشہور و معلوم ہیں تو جو شخص اُن مہینوں میں حج کا قصد کر لے تو وہ عورت سے صحبت نہ کرے اور نہ ( کسی قسم کی ) بدکاری کرے اور نہ جھگڑا حج کے دنوں ) میں اور جو کچھ نیکی کرو تم وہ اللہ کو معلوم ہے اور تم سامان اور تو شہ ساتھ لو اور عمدہ سے عمدہ تو شہ تو تقوای (اور اللہ سے ڈرنے کا) ہے اور مجھ ہی سے ڈرو اور مجھ ہی کو سپر بناؤ اے عقل والو! تفسیر۔مَعْلُومت۔اسلام کے تعارف میں ہر ایک جانتا ہے۔رفت۔جماع کا ذکر کرنا۔جماع کے سامان۔خود جماع۔تینوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ابنِ عباس نے پہلے معنوں کو پسند کیا ہے۔بعض لوگ إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَبِ اللَّهِ (التوبة : ٣٢) سے استدلال کر کے کل کا نام حج قرار دے لیتے ہیں لیکن ائمہ اربعہ میں میں نے دیکھا ہے کہ وہ تمام سال احرام باندھنے کو پسند نہیں کرتے۔تزودوا کھانے پینے۔سواری کا انتظام۔یہ سامان بہت ضروری ہیں۔مدینہ کی راہ میں میں نے ایک نوجوان شخص کو دیکھا کہ جب وہ سخت تھک گیا تو ایک شخص کو ٹانگ سے پکڑ کر اونٹ پر سے گرا دیا اور خود او پر چڑھ گیا۔اگر اس کے پاس زادِ راہ ہوتا تو یہ جدال کیوں کرتا۔فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقوی۔سامان کا عظیم الشان فائدہ تو یہ ہے کہ آدمی سوال اور گناہ سے بچ جاتا ہے۔جس کے پاس زادراہ نہ ہو وہ چوری کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور غالباً اس قسم کی حکایتیں انہی قسم کی کمزوریوں کی وجہ سے بن گئی ہیں۔ایک نابینا عورت کی کسی نے چادر اتار لی تو وہ کہنے لگی۔وے بچہ حاجیا میری چادر تو دیتا جا۔1 مہینوں کی گنتی تو اللہ کے یہاں بارہ ہی ہے اللہ کے دین میں محفوظ۔( ناشر )