حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 502
حقائق الفرقان ۵۰۲ سُورَةُ الْبَقَرَة ڈرو اور جانو کہ اللہ ہی سخت سزا دینے والا ہے ( کافروں کو )۔وَاتِقُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ - مکہ والوں نے مسلمانوں کو حج وعمرہ سے منع کیا ہو ا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم حج کرو گے۔یہ کب تک روکتے رہیں گے۔فَإِنْ أَحْصِرُ تُم۔اگر تم رو کے گئے ( جیسے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ) تو بھی اندیشہ کی بات نہیں اخیر تمہاری فتح ہے۔ذلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔ذلِك میں بحث ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یہ حج و عمرہ کو ملا کر کرنے کی بیرونی لوگوں کو اجازت ہے مکہ والوں کو نہیں۔بعض کہتے ہیں کہ مکہ والے بھی کر سکتے ہیں۔مجھے وہ بات پسند ہے کہ یعنی مکہ والے تمتع نہیں کر سکتے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مؤرخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۴) حج اسلام کا ایک اعلیٰ رکن ہے۔باوجود اس کے کہ نوٹس اور اشتہاروں کی کثرت ہورہی ہے اور ہر جگہ مجلسیں اور سوسائٹیاں جوش و خروش سے قائم ہو رہی ہیں مگر پھر بھی دنیا میں کوئی مجلس ایسی دید وشنید میں نہیں آئی جس کے ممبر پانچ وقت جمع ہوتے ہوں مگر جناب الہبی نے اطاعت اور طہارت کے ساتھ پانچ وقت جمع ہونے اور مل کر اس کی عظمت و جبروت کو بیان کرنا مسلمانوں کا فرض کر دیا ہے۔کوئی شہر اور قصبہ نہ دیکھو گے جس کے ہر محلہ میں اسلام کی یہ پنجگانہ کمیٹی نہ ہوتی ہو لیکن اس روزانہ پانچ وقت کے اجتماع میں اگر تمام باشندگانِ شہر کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا جاتا تو یہ ایک تکلیف مالا بطاق ہوتی۔اسی لئے تمام شہر کے رہنے والے مسلمانوں کے اجتماع کے لئے ہفتہ میں ایک دن جمعہ کا مقرر ہوا پھر اسی طرح قصبات اور دیہات کے لوگوں کے اجتماع کے لئے عید کی نماز تجویز ہوئی اور چونکہ یہ ایک بڑا اجتماع تھا اس لئے عید کا جلسہ شہر کے باہر میدان میں تجویز ہو الیکن اس سے پھر بھی کل دنیا کے مسلمان میل ملاپ سے محروم رہتے تھے اس لئے کل اہلِ اسلام کے اجتماع کے لئے ایک بڑے صدر مقام کی ضرورت تھی تا کہ مختلف بلاد کے بھائی اسلامی رشتہ کے سلسلہ میں یکتا باہم مل جاویں لیکن اس کے لئے چونکہ ہر فرد و بشر مسلمان اور امیر اور فقیر کا شامل ہونا محال تھا اس لئے صرف