حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 379 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 379

حقائق الفرقان ۳۷۹ سُورَة البَقَرَة ایک مسلمان جھوٹ بول لے، چوری کرے، دغا دے،حرام خوری سے مال چھین لے۔سب کچھ کرے مگر مسلمان ہی سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کوئی مسلمان سؤر کھا لے تو میں نہیں سمجھتا اسے کوئی مسلمان سمجھے حالانکہ دوسری حرام چیزوں کے مرتکب ہونے سے ایسا نہیں سمجھا جاتا۔اسی طرح عرب والوں میں ایک مسئلہ تھا اور وہ مکہ معظمہ کی تعظیم کا تھا۔وہ ہر بدی کا ارتکاب کر لیتے تھے مگر کبھی مکہ پر چڑھائی نہ کرتے۔چڑھائی تو در کنار اس کے حدود میں شکار نہ کرتے۔کوئی پناہ لیتا تو پھر اس سے تعرض نہ کرتے۔قرآن کریم میں اسی لئے أَطْعَبَهُم مِّنْ جُوع (القريش: ۵) اور يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ (العنكبوت: ۶۸) فرمایا۔یہاں تک ادب تھا کہ مکہ میں آمد و رفت کے دنوں تمام جنگ موقوف ہو جاتے تھے۔ایسے موقعہ پر اللہ نے دل میں ڈالا کہ مکہ قبلہ ہونا چاہیے مگر چونکہ وہاں بت پرستی تھی اور یہ دین محض تو حید تھا اس لئے پہلے اجازت نہیں ملی۔پھر جب مدینہ میں گئے تو وہاں یہودی بیت المقدس کی تعظیم کرتے تھے۔اس وقت ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ مکہ کو قبلہ بنایا جائے تا معلوم ہو کہ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخه ۲۵ / مارچ ۱۹۰۹ صفحه ۲۳، ۲۴) بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے پر آریہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تم بیت اللہ کی پوجا کرتے ہو۔یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے۔وہ نہیں جانتے کہ انسان جب عبادت الہی کرے گا تو کسی نہ کسی سمت کو تو اس کا منہ ہو ہی جائے گا۔ہر صورت یہ اعتراض انسان پر آ سکتا ہے کیونکہ وہ بھی مشرق کی طرف عبادت میں اور آگ کی طرف ہون میں منہ کرتے ہیں اس لئے آریہ لوگ خود بھی اس کے نیچے ہی ہیں۔اہل اسلام اگر نماز اس طرح سے پڑھتے کہ کسی کا منہ پورب کو کسی کا پچھتم کو کسی کا اوتر کو اور کسی کا دکن کو تو کیا اس سے سب کے خیالات و اعتقادات کا یکساں ہونا اور سب کے اتفاق و محبت کا اظہار ہو سکتا تھا۔پھر جو خوبی اور خوبصورتی دوش بدوش کھڑے ہو کر اور ایک لے جس نے ان کو بھوک کے وقت کھا ناد یا اور ہر قسم کے خوف سے امن میں رکھا۔لوگ اُچک لئے جارہے ہیں اس کے آس پاس ہے۔(ناشر)