حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 378 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 378

حقائق الفرقان ۳۷۸ سُورَة البَقَرَة یہ تین قومیں میں نے دیکھی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی قسم ! کہ انہوں نے اس بدگوئی کا نتیجہ نیک نہیں اُٹھایا۔اب میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کو عیب شماری کا شوق ہے مگر میں سچ کہتا ہوں اور اپنے مشاہدے سے کہتا ہوں کہ جو دوسروں کے عیب از راہ تحقیر نکالتا ہے وہ مرتا نہیں جب تک خود اس عیب میں مبتلا نہ ہو جائے۔اس رکوع میں بھی ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے۔سُفَهَا جَمْعَ سَفِيهِ - ثَوْب سَفِيه وہ رڈی کپڑا جو بہت ہی خراب ہو۔سفیہ کہتے ہیں اُس شخص کو جود ینی دنیوی عقل عمدہ نہ رکھتا ہو۔قرآن کریم میں ہے۔لَا تُؤْتُوا السُّفَهَاء أَمْوَالَكُمُ (النساء : 1) یہ کام سفہا ء کا ہے کہ دوسروں کی عیب شماری کرتے رہیں اور ہر وقت اعتراض ہی کرتے رہیں۔مَا وَلَهُمْ۔کس چیز نے ہٹا دیا ان کو۔كذلك - به سبب ایسی ہی باتوں کے۔اسی لئے انہی تدبیروں سے۔یہاں گذلك کے یہی معنے ہیں۔اُمَّةً وَسَطًا۔اعلیٰ درجہ کے لوگ۔شُهَدَاءَ - نگران۔لِنَعْلَم۔تا ہم دیکھیں۔مِمَّن۔ان لوگوں سے الگ کر کے۔ایمانکم۔تمہاری نمازوں کو۔حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ معظمہ میں تھے اس وقت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ہر قوم میں ایک نہ ایک مسئلہ بہت عزیز ہوتا ہے اور اس پر سب قوم متفق ہوتی ہے۔دیکھو ہندو ہیں ان میں جھوٹ، فریب ، دغا، زنا، شراب سب کچھ ہے مگر ایک مسئلہ ہے ان میں قومیت کا کہ برہمن کھتریوں سے بیاہ نہ کرے۔کھتری شودروں سے الگ رہیں۔اس مسئلے کے کوئی خلاف نہیں کرتے۔ل مال ان کے حوالے نہ کرو جو کم عقل ہوں۔(ناشر)