حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 309
حقائق الفرقان ۳۰۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سے۔فوز الکبیر میں ہے۔یہ بالکل منسوخ نہیں بلکہ واللاتی آہ میں حکم ایک غایت کے انتظار کا ہے۔سورہ نور میں اس غایت کا بیان ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ سبیل ہے جس کا وعدہ دیا تھا پس نسخ نہ ہوئی۔یا فاحشة کے معنی میں عام طور کی شرارتیں مراد ہیں بدون زنا کے۔پس مطلب یہ ہے کہ عورت کو عام طور پر بعض شرارتوں کے باعث گھر میں روکا جاسکتا ہے۔گیارہویں آیت ” وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ “ (المائدة: ۳) آہ اس مہینے میں اباحت قتال کے ساتھ منسوخ ہے فوز الکبیر میں ہے قرآن اور سنت ثابتہ میں اس کا نسخ موجود نہیں۔بارہویں آیت " فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمُ بَيْنَهُم أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ، " (المائدة: ۴۳) منسوخ ہے وَ آنِ احْكُمُ بَيْنَهُم بِمَا أَنْزَلَ اللهُ " (المائدۃ:۵۰) کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے کہ اس کے معنے ہیں کہ اگر تو حکم کرے اہل کتاب کے مقدمات میں تو ما انزل اللہ پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ جا۔حاصل یہ ہوا کہ یا تو ہم اہل ذمہ کو چھوڑ دیں وہ اپنے مقدمات اپنے افسروں کے پاس لے جاویں اور وہ اپنی شریعت کے موافق فیصلہ کریں اگر ہمارے پاس آویں تو حسب شریعت 66۔991 خود فیصلہ کر دیں۔تیرہویں آیت : ” أَوْ أَخَذَنِ مِنْ غَيْرِ كُمُ “ (المائدة: ١٠٧) منسوخ ہے۔وَأَشْهِدُوا ذَوَى عَدْلٍ مِنْكُمْ (الطلاق: ۳) کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے کہ امام احمد نے آیت کے ظاہر پر حکم دیا ہے اور اس آیت کے معنے اور لوگوں نے یہ کئے ہیں۔أَوْ أَخَرْنِ مِنْ غَيْرِكُمْ أَتَى مِنْ غَيْرِ قَارِبِكُمْ فَيَكُونُونَ مِنْ سَائِرِ الْمُسْلِمِينَ _ 66199 چودھویں آیت : " إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ طَيرُونَ ، الاية (الانفال: ۲۲) منسوخ لے اور نہ تعظیم والے مہینے کو۔سے پھر اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان میں فیصلہ کر دے یا ان سے منہ پھیر لے ( تیرا اختیار ہے)۔۳۔اور اگر تم فیصلہ کرو اُن میں اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے موافق۔(ناشر) ہے تمہارے سوائے اور دو شخصوں کی۔۵۔اور گواہ کر لو دو انصاف والے گواہ - 1 یعنی تمہارے اقارب کے سوا دوسروں میں سے۔پس وہ باقی سب مسلمانوں میں سے ہوں گے۔کہ اگر ہوں گے تم میں سے ہیں آدمی صابر۔