حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 281
حقائق الفرقان ۲۸۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دونوں کا انکار ملائکہ اور ملائکہ کے آفیسر ز جبرائیل و میکائیل کا انکار ہے۔پھر رسولوں کا انکار ہے جو ان ملائکہ کی تحریکات کے مہبط ہیں۔پھر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے جو تمام رسولوں کے کمالات کے جامع ہیں اور ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ مخالف ہے۔اور پھر ایسا کفر کرنے والوں کا ایک نشان ہے کہ وہ سب بدعہد ہیں اور فاسق و فاجر، اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کیونکہ جبرائیل و میکال کا دشمن وہی ہوگا جو دین و دنیا کے متعلق عمدہ و نیک تحریکوں کا مخالف ہو اور وہ فاسق فاجر کے سوا کون ہو ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۹ ۲۰ مورخه ۴و۱۱ / مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۷) سکتا ہے۔میں نے بارہا سنایا کہ ملک پر ایمان لانے کا منشاء کیا ہے؟ صرف وجود کا مانا تو غیر ضروری ہے۔اس طرح تو پھر ستاروں ، آسمانوں ، شیطانوں کا ماننا بھی ضروری ہوگا۔پس ملائکہ پر ایمان لانے سے یہ مراد ہے کہ بیٹھے بیٹھے جو کبھی نیکی کا خیال پیدا ہوتا ہے اُس کا محرک فرشتہ سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے کیونکہ جب وہ تحریک ہوتی ہے تو وہ موقعہ ہوتا ہے نیکی کرنے کا۔اگر انسان اس وقت نیکی نہ کرے تو ملک اس شخص سے محبت کم کر دیتا ہے۔پھر نیکی کی تحریک بہت کم کرتا ہے اور جوں جوں انسان بے پرواہ ہوتا جائے وہ اپنی تحریکات کو کم کرتا جاتا ہے اور اگر وہ اس تحریک پر عمل کرے تو پھر ملک اور بھی زیادہ تحریکیں کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اس شخص سے تعلقات محبت قائم ہوتے جاتے ہیں بلکہ اور فرشتوں سے بھی یہی تعلق پیدا ہو کر نَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلكَةُ (حم السجدۃ: ۳۱) کا وقت آ جاتا ہے۔یہاں خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے دوفرشتوں کا ذکر کیا ہے اس میں ایک کا نام جبرئیل ہے۔دوسرے مقام پر اس کے بارے میں فرمایا ہے۔اِنَّه لَقَولُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - ذِى قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينِ۔مُطَاع ثم آمین۔(التكوير : ۲۰ تا ۲۲) یعنی وہ رسول ہے اعلیٰ درجہ کی عزت والا۔طاقتوں والا۔رتبے والا۔اور ملائکہ اس کے ماتحت چلتے ہیں۔اللہ کی رحمتوں کے خزانہ کا امین ہے۔پس جب یہ امر مسلم ہے کہ تمام دنیا میں ملائکہ کی تحریک سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے اور ملائکہ کی فرمانبرداری مومن کا فرض ہے تو پھر اس ملائکہ کے سردار کی تحریک اور بات تو ضرور مان لینی چاہیے۔چونکہ یہ تمام محکموں کا لے ان پر فرشتے اترتے ہیں۔(ناشر)