حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 279
حقائق الفرقان ۲۷۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جبرائیل کا کون دشمن ہو سکتا ہے جبکہ وہی نیک تحریکوں کا سر چشمہ ہے۔اسی نے نازل کیا ہے یہ قرآن تیرے قلب پر۔آئندہ جو ہو گا وہ دنیا دیکھ لے گی مگر موجودہ تعلیمات دنیا میں جس قدر ہیں ان ساری پاک تعلیموں اور نیک تحریکوں کا عطر نکالو پھرمحمد رسول اللہ (صلعم) کی تعلیم سے مقابلہ کرو تو وہ سب کچھ اس میں موجود ہو گا اور میں (نورالدین) اس بات کا گواہ ہوں کہ میں نے ساری بائیبل کو دیکھا ہے اور تین ( سام، بحجر اور رگ ) ویدوں کو خوب سنا ہے پھر دسا تیر کو بہت توجہ سے پڑھا ہے اور برہموؤں کی کتابوں کو دیکھا یہی کتابیں میرے نز د یک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی ہیں۔ان سب میں کوئی ایسی صداقت نہیں جو قرآن مجید میں نہ ہوا اور پھر ا تم نہ ہو۔مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنین پھر فرماتا ہے کہ جو اگلی کتابوں میں سچ ہے اس کی تصدیق کرنے کے علاوہ اس میں اور بھی کچھ ہدایتیں ہیں جو پچھلی کتابوں میں نہیں۔ایک بات سناتا ہوں۔اگلی کتابوں میں جو نصائح ہیں ان پر دلائل نہیں۔چنانچہ ان میں لکھا ہے خدا ایک ہے۔زمین و آسمان میں تیرے لئے کوئی دوسرا خدا نہ ہو۔پڑوسی کی مددکر۔سبت منا۔مبارک وہ جو غریب دل ہیں۔اس قسم کی تعلیمات ہیں مگر ان کے ساتھ دلائل کوئی نہیں مگر قرآن شریف میں یہ خاصہ ہے کہ ایک طرف دعوی ہے دوسری طرف اس کے دلائل بھی ساتھ دیئے ہیں۔اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَايْتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرة: (۱۶۵) میں لآیات سے مراد دلائل ہیں۔ا بے شک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ہیر پھیر میں اور جہازوں میں جولوگوں کے فائدہ کی چیزیں لے کر سمندر میں چلتے ہیں اور برسات میں جس کو اللہ بدلی سے برساتا ہے پھر اُس کے ذریعہ سے زمین کو جلاتا ہے اُس کے مر گئے پیچھے اور ہر قسم کے جانوروں میں جو اس زمین میں پھیلا رکھے ہیں اور ہواؤں کے چلانے میں اور اُس بادل میں جو ( اللہ کے حکم سے ) گھرا ہوا رہتا ہے آسمان اور زمین کے بیچ میں ( غرض ہر ایک میں) بہت کچھ نشانیاں موجود ہیں اُن ہی کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔( ناشر )